ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
''یقینا یہ بات کہ میں اَنگارہ منہ میں لوں یہ مجھے پسند ہو گا بہ نسبت اِس کے کہ میںامام کے پیچھے یہ جانتے ہوئے کہ وہ پڑھ رہا ہے پڑھوں۔ '' حافظ نیموی رحمة اللہ علیہ نے آثار السنن میں فرمایا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے ۔ (بقیہ حاشیہ ص١٧ ) اور عبادت وحج میں بہت بڑا مقام رکھتے تھے۔ ابوحمزہ نے بیان کیا ہے کہ اَسود بن یزید نے اَسّی بار سفر حج اور عمرہ کیا ہے حج جدا اَور عمرہ جدا، اِسی طرح اُن کے بیٹے نے بھی کیا ہے ۔ اُن کے بیٹے عبدالرحمن بن اَسود ہردن سات سورکعتیں پڑھا کرتے تھے اور لوگ یہ کہتے تھے کہ وہ اپنے اہل خانہ میں سب سے کم مجاہدہ کرنے والے ہیںاور اَسود رحمة اللہ علیہ کو لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ اہل ِجنت میں سے ہیں۔ ٧٥ھ میں یا اِس کے قریب قریب اِن کی وفات ہوئی رحمة اللہ علیہ۔(تذکرة الحفاظ ص ٥٠ ج١) حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہما نے تہذیب التہذیب میں اِن کے اساتذہ میں حضرت عائشہ ،ابو السنابل بن بعکک ، ابومحذورہ اَور ابوموسی وغیرہم کے اسماء بھی گنائے ہیں۔ لیکن بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسود رحمة اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بہت ہی قریب تھے۔امام بخاری نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اسودنے فرمایاکہ مجھ سے ابن زبیر نے کہا کہ حضرت عائشہ تم سے ایسی حدیثیں بھی بہت سناتی رہتی تھیں جو دُوسرے شاگردوںسے مخفی رکھتی تھیں تو کعبة اللہ کے بارے میں تمہیں اُنہوں نے کیا بتلایا ہے۔ میںنے کہا کہ اُنہوںنے مجھ سے فرمایا تھا کہ جناب رسول اللہ ۖ نے اِرشاد فرمایا کہ اے عائشہ اگر ایسا نہ ہوتا کہ تمہاری قوم کا زمانہ........ ابن زبیر درمیان میں بولے .......کفرکے (قریب نہ ہوتا ) تو میں کعبة اللہ کی عمارت شہید کرکے دو دروازے بنادیتا ایک وہ دروازہ کہ جس سے لوگ داخل ہوں اَور ایک وہ کہ جس سے نکلیں............تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کردیا ۔ (باب من ترک بعض الاختیار ص ٢٤ ج١ بخاری) اِس سے معلوم ہوا کہ حضرت اَسود رحمة اللہ علیہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علوم کے راز دار شاگرد تھے اَوراِنہوں نے اپنے علم کی صحت و تقویت کے لیے حضرت اسود کا انتخاب کیا ۔ کعبة اللہ کی عمارت یزید کے لشکرکَشی کے وقت کمزور پڑ گئی تھی یزید کی موت کے بعد اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی تو حضرت ابن ِزبیر رضی اللہ عنہما نے اِسے بنانے کا اِرادہ کیا تو اِس طرح اِس کی عمارت اُٹھائی جس بنیاد پر جناب رسول اللہ ۖ بنانی چاہتے تھے یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی بنیاد پر ، جیسے کہ امام بخاری نے باب فضل مکة وبنیا نھا میں روایت بیان فرمائی ہے ۔( ص ٢١٥، ج١)