Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009

¾اكستان Ù

18 - 64
''یقینا یہ بات کہ میں اَنگارہ منہ میں لوں یہ مجھے پسند ہو گا بہ نسبت اِس کے کہ میںامام کے پیچھے یہ جانتے ہوئے کہ وہ پڑھ رہا ہے پڑھوں۔ ''
حافظ نیموی رحمة اللہ علیہ نے آثار السنن میں فرمایا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے ۔

(بقیہ حاشیہ  ص١٧ ) اور عبادت وحج میں بہت بڑا مقام رکھتے تھے۔ ابوحمزہ  نے بیان کیا ہے کہ اَسود بن یزید نے اَسّی بار سفر حج اور عمرہ کیا ہے حج جدا اَور عمرہ جدا، اِسی طرح اُن کے بیٹے نے بھی کیا ہے ۔ اُن کے بیٹے عبدالرحمن بن اَسود ہردن سات سورکعتیں پڑھا کرتے تھے اور لوگ یہ کہتے تھے کہ وہ اپنے اہل خانہ میں سب سے کم مجاہدہ کرنے والے ہیںاور اَسود رحمة اللہ علیہ کو  لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ اہل ِجنت میں سے ہیں۔ ٧٥ھ میں یا اِس کے قریب قریب اِن کی وفات ہوئی رحمة اللہ علیہ۔(تذکرة الحفاظ  ص ٥٠  ج١) 
حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہما نے تہذیب التہذیب میں اِن کے اساتذہ میں حضرت عائشہ ،ابو السنابل بن بعکک ، ابومحذورہ اَور ابوموسی وغیرہم کے اسماء بھی گنائے ہیں۔ 
لیکن بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسود رحمة اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بہت ہی قریب تھے۔امام بخاری  نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اسودنے فرمایاکہ مجھ سے ابن زبیر  نے کہا کہ حضرت عائشہ تم سے ایسی حدیثیں بھی بہت سناتی رہتی تھیں جو دُوسرے شاگردوںسے مخفی رکھتی تھیں تو کعبة اللہ کے بارے میں تمہیں اُنہوں نے کیا بتلایا ہے۔ میںنے کہا کہ اُنہوںنے مجھ سے فرمایا تھا کہ جناب رسول اللہ  ۖ نے اِرشاد فرمایا کہ اے عائشہ اگر ایسا نہ ہوتا کہ تمہاری قوم کا زمانہ........ ابن زبیر درمیان میں بولے .......کفرکے (قریب نہ ہوتا ) تو میں کعبة اللہ کی عمارت شہید کرکے دو دروازے بنادیتا ایک وہ دروازہ کہ جس سے لوگ داخل ہوں اَور ایک وہ کہ جس سے نکلیں............تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کردیا ۔ (باب من ترک بعض الاختیار  ص ٢٤  ج١  بخاری) اِس سے معلوم ہوا کہ حضرت اَسود رحمة اللہ علیہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علوم کے راز دار شاگرد تھے اَوراِنہوں نے اپنے علم کی صحت و تقویت کے لیے حضرت اسود   کا انتخاب کیا ۔
کعبة اللہ کی عمارت یزید کے لشکرکَشی کے وقت کمزور پڑ گئی تھی یزید کی موت کے بعد اُس کے لشکر کو شکست  ہو گئی تو حضرت ابن ِزبیر رضی اللہ عنہما نے اِسے بنانے کا اِرادہ کیا تو اِس طرح اِس کی عمارت اُٹھائی جس بنیاد پر   جناب رسول اللہ  ۖ  بنانی چاہتے تھے یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی بنیاد پر ، جیسے کہ  امام بخاری  نے باب فضل مکة وبنیا نھا میں روایت بیان فرمائی ہے ۔( ص ٢١٥، ج١)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
4 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 12 3
5 علمی مضامین 15 1
6 بیس رکعت تراویح اَور اُس کے دلائل 15 5
7 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 27 1
8 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 27 7
9 وفیات 31 1
10 تربیت ِ اَولاد 34 1
11 زچہ (بچہ کی ماں ) کے غسل میں تاخیر اَور نماز میں کوتاہی : 34 10
12 متعین اَوقات میںزچہ کی تین مرتبہ نہلانے کی رسم 34 10
13 غسل کے وقت عورتوں کا جمع ہونا : 35 10
14 غسل کے وقت دھوم دھام اَور ناچ گانا : 35 10
15 غسل کے وقت ستر اَور پردہ پوشی کی ضرورت 35 10
16 اَچھوانی اَورسٹھورا وغیرہ تقسیم کرنے کو ضروری سمجھنا : 36 10
17 پیدائش کی خبر نائی کے ذریعہ پہنچانے کی رسم : 36 10
18 چند ضروری تنبیہات : 36 10
19 محرم الحرام کی فضیلت 37 1
20 منکراتِ مروجہ کی مذمت 37 1
21 تنبیہ : 38 19
22 قسم اوّل کے منکرات : 39 20
23 قسم دوم کے منکرات : 41 20
24 معاشرتی اِصلاح کے متعلق چند زَرّیں ہدایات 44 1
25 لڑکیوں کی پرورش کرنے او ر اُن پر خرچ کرنے کی فضیلت 44 24
26 لڑکی کی اہمیت : 44 24
27 شادی میں تاخیر نہ کیجیے : 45 24
28 سادگی کے ساتھ بِلا بارات کے شادی کی ترغیب : 46 24
29 منگنی اَور تاریخ میں دعوت کی ضرورت نہیں : 46 24
30 مسجد میں نکاح ہونے کی تحریک چلائو : 46 24
31 بیوی کے حقوق : 47 24
32 ساس بہو کے ساتھ رہنے کا مسئلہ : 48 24
33 اہلیہ کو لے کر علیحدہ رہیے اَو روالدین کی خدمت کیجیے : 49 24
34 بے پردگی کانتیجہ 50 24
35 عورت چاہے تو شوہر اَور پورے گھر کو دیندار بنادے : 50 24
36 گلدستہ ٔ اَحادیث 53 1
37 اِنسان کی تخلیق کے مدارج : 53 36
38 چار رَوز اُندلس میں 56 1
39 اَلْحَمْرَائْ '' : 56 38
40 واپس مالگا روانگی : 59 38
41 مالگا( MALAGA) : 60 38
42 دینی مسائل 61 1
43 لعان کا بیان : 61 42
44 بقیہ : معاشرتی اِصلاح کے متعلق چند زرّیں ہدایات 62 24
46 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter