ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ''جناب رسول اللہ ۖنے ظہر کی نماز پڑھائی ۔ جب سلام پھیرا تو دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَ عْلٰی پڑھی ہے لوگوںمیں ایک صاحب نے عرض کیا میں نے۔ فرمایا میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کسی نے میرے پڑھنے میں تشویش پیدا کی ہے۔'' حضرت عبداللہ رضی عنہ کے پاس ایک شخص نے آ کر پوچھا کیا میں امام کے پیچھے پڑھوں؟اِس سے حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ''نماز میں (توجہ الی اللہ کی) مشغولیت ہوتی ہے۔ اوراِس (قراء ت ) کے لیے تمہارے واسطے امام کافی ہے۔''(مصنف ص١٣٨ ج٢) یہ روایت مصنف عبدالرزاق میں عن منصور عن ابی وائل آئی ہے اوریہ صحیح بخاری کے رجال ہیں۔ اورصحیح السندہے۔ ١ حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے فرمایا : ''میرا جی چاہتا ہے کہ جو امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو اُس کے منہ میں اَنگارہ ہو۔ '' اِس روایت کی سند صحیح وجلیل الشان ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ''تمہارے لیے امام کا پڑھنا کافی ہے''۔یہ روایت مرسل صحیح السند ہے۔ حضرت اَسود ٢ نے فرمایا : ١ سب روایات کے رجال پر عربی عبارت میں تفصیل موجود ہے ۔ ٢ ذہبی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اَسود بن یزید بن قیس ابو عمر والنخعی جو امام ہیں زاہدہیں عابد ہیں عالِم ِکوفہ اورعالِم ِکوفہ حضرت علقمہ کے بھتیجے ابراھیم النخعی الفقیہ کے ماموں اورعبدالرحمن بن یزید کے بھائی ہیں حضرت معاذ ،ابن مسعود،حذیفہ، بلال اور بڑے بڑے حضرات سے روایات لی ہیں۔اِن سے اُن کے بیٹے عبدالرحمن اور ابراہیم نے اور ابو اسحق سبیعی اور متعدد حضرات نے روایات لی ہیں۔ (باقی حاشیہ اَگلے صفحہ پر )