ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
وہب رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ ''عبداللہ بن عمر امام کے پیچھے نہیںپڑھا کرتے تھے۔'' اور امام مسلم رحمةاللہ علیہ نے اپنی صحیح میں عطا ء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ اُنہوںنے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ نماز میںپڑھنے کا مسئلہ پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ : '' امام کے پیچھے کسی بھی نماز میں نہ پڑھے۔'' حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ'' ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے پڑھنے کا مسئلہ پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ '' قرآن پاک کی طرف خاموشی سے دھیان لگائو کیونکہ نماز میں خاص مشغولیت ہونی ضروری ہے (توجہ الی اللہ)اور امام پڑھنے کے لیے کافی ہے۔'' (فتاوی کبرٰی ابن تیمیہ ص ١٧١ ج٢) اور ابن مسعود اور زید بن ثابت دونوں حضرات اہل مدینہ اور اہل کوفہ کے فقیہ ہیںاور صحابی ہیں ۔ آثارِ صحابہ و تابعین میں وہ روایات بھی ہیں جو ابن ِابی شیبہ رحمة اللہ علیہ نے اپنی عظیم الشان کتاب مصنف میں لکھی ہیں اَور ابن ِابی شیبہ بہت بڑے بڑے ائمہ حدیث میں سے ایک بڑے امام ہیں ان کی قابل افتخار چیزجس میں وہ دیگر ائمہ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں یہ ہے کہ وہ امام بخاری مسلم ابوداو'د ابن ماجہ اور بے شمار علماء کے اُستاد ہیں اِنہوں نے اپنی کتاب '' مُصَنَّفْ '' میںایک مستقل باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے ''وہ حضرات جنہوں نے امام کے پیچھے پڑھنا مکروہ جانا ہے'' ابو اُکَیمہ نے بتلایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اُنہوں نے فرمایا کہ '' جناب رسول اللہ ۖ نے ایک نماز پڑھائی گمان یہ کہ یہ صبح کی نماز تھی جب آپ نے ادا فرمائی تو دریافت فرمایا کہ تم میںسے کسی نے پڑھا ہے؟ ایک شخص نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے ۔آپ نے اِرشاد فرمایا (جب ہی تو میں دل میں )کہہ رہا ہوں کیا وجہ ہے جو قرآن پاک (کے پڑھنے) میں مجھ سے کھینچا تانی کی جارہی ہے''۔