ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
١٩٢٨ء کی بات ہے کہ یہودی میگزین Le Symbolisme شمارہ جولائی میں یہ تحریر کیا گیا : ''یورپین ماسونی شخص کی سب سے اہم ذمّہ داری یہ ہے کہ وہ یہودی نسل کی عظمت کا قائل ہو جس نے عقل و دانش کے خدا ئی معیار کو قائم رکھا ہے۔ فلاڈلفیا سے ١٩٠٦ء میں شائع ہونے والے فری میسن انسائیکلوپیڈیا میں لکھا گیا : ''لازم ہے کہ ہر محفل (ماسونیت کا مرکز) یہودی ہیکل کا رمز ہو اور حقیقتًا ایسا ہی ہے اور ہر اُستاد اپنی کرسی پر یہودی بادشاہ کا نمائندہ ہو اور ہر فری میسن (ماسونی) یہودی وَرکر کی تصویر ہو۔'' یہودی انسائیکلوپیڈیا اشاعت ١٩٠٣ء جلد پنجم صفحہ ٥٠٣ پر لکھا گیا ہے : ''فنی زبان، اشارات، روایات و رُسومات جن پر یورپین ماسونیت عمل پیرا ہے، یہودی مثالوں اور اِصطلاحات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں تمام سرکاری خطوط و دستاویزات پر جو تاریخیں درج کی جاتی ہیں وہ یہودی تقویم اور صہیون کے مطابق درج کی جارہی ہیں اور حروف تہجی بھی عبرانی استعمال کیے جارہے ہیں۔'' ماسونیت کی خفیہ تعلیمات جنسی عمل کو مقدس قرار دیتی ہیں اور اباحیت کو پھیلانے کی مکمل آزادی فراہم کرتی ہے۔ ''ہماری تمنا ہے کہ ایک ایسی سوسائٹی وجود میں لائی جائے جس میں جنسی عمل کی بالکل آزادی ہو۔ ہم ایسے لوگ پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اپنے اَعضاء تناسلی کے بارے میں نہ شرمائیں۔ آج جبکہ عیسائی تمدن غالب ہے ہمیں بہت سی دُشواریاں ہیں لیکن آغاز عملًا ہوگیا ہے جو کتنا ہی محدود کیوں نہ ہو۔ کامیاب تجربہ ہے وسیع پیمانہ پر ہماری کامیابی یقینی ہے اگر ہم نوجوانوں کو کچی عمر سے اِن جدید خیالات اور فیشن کی غذا فراہم کریں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ یہ سمجھیں کہ پیدائش کے وقت سے ہی اَعضاء تناسل کو تقدس حاصل ہے۔'' اِس طرح خود یہودیوں کے اِعترافات اور اِقرار سے یہ بات واضح ہے کہ ماسونی تحریک شرپسندانہ ذہن کا نتیجہ اور یہودیوں کے تباہ کن اور خبیث مقاصد کے لیے وجود میں لائی گئی ہے جس کا ایک اہم نشانہ