ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
اكستان |
|
شاہ صاحب مرحوم کا وہ زمانہ آپ ............. زمانہ کی طرح تھا۔ آگے سُنئے اور سننے سے بہتر ہے کہ مفتی محمد شفیع صاحب کی تالیف ''وحدتِ اُمت'' منگواکر دیکھئے۔ شاہ صاحب پر آخری دنوں میں اکثر ایک حسرت طاری رہتی تھی اور فرمایا کرتے تھے کہ تمام زندگی برباد کردی۔ میرا اِرادہ تھا کہ ضرور آپ کے ہاں حاضر ہوں گا مگر آپ کے اِن کلمات سے طبیعت مکدر ہوگئی کہ ''جب آپ کو میری تحریر سے کوئی فائدہ ہو''۔ نامعلوم آپ کو یہ زعم کیوں ہے کہ بار بار بطورِ ناصح اور اُستاد اپنے آپ کو ظاہر فرماتے ہیں۔ میں خود علماء حق سے کچھ حاصل کرنا سعادت سمجھتا ہوں مگر وہ ہیں کہاں؟ اگر آپ بقول اپنے اپنے آپ کو ایسا سمجھتے ہیں تو میں ضرور باور کرلیتا اگر آپ اپنے آپ کو بطورِ ناصح پیش نہ کرتے۔ آپ کے وسائل وسیع ہیں۔ آپ کا کتابی علم وسیع ہے۔ آپ اپنے وسائل کو عمل میں لاکر وقتی ضروریات کے مطابق دین کی خدمت کی طرف توجہ فرمائیے۔ فیض عالم جیسے سینکڑوں آپ کا رُکاب تھامنے کو اپنی سعادت سمجھیں گے۔ والسلام فیض عالم شب ِقدر کی دُعائ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ۖ اگرمجھے معلوم ہو جائے کہ شب ِقدر کون سی ہے تو(اُس رات ) میں کیا دُعا کروں؟ آپ ۖ نے فرمایا (دُعا میں)یوں کہنا : اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ اے اللہ ! تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرمادے