Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007

¾اكستان Ù

14 - 64
لیں گے اور یہ دلائل ٹوٹ جائیں گے۔ یہ آپ نے ص ١ سے شروع کیے ہیں ص٢ پر ختم ہوئے ہیں۔ نیز شاید آپ نے کتب عقائد کی طرف توجہ نہیں کی جو ساری اُمت پڑھتی پڑھاتی ہے ورنہ یہ دلیلیں نہ لکھتے وہاں   یہ حدیثیں موجود ہیں اور اُن کا جواب بھی اور اتفاقِ صحابہ و اُمت بھی۔ 
آپ سلفی ہیں تو جو عقیدہ سلف سے متواتر چلا آرہا ہے وہ ہی رکھیے۔ دیکھئے عقائد میں سب سے پہلی کتاب امام طحاوی نے لکھی ہے جس کی صحت پر ساری دُنیا کے اہل ِ سنت علماء متفق چلے آرہے ہیں۔ اُس میں تحریر ہے  وَتَثْبُتُ الْخِلَافَةُ اَوَّلًا لِاَبِیْ بَکْرٍ( ص ٤٠٠) اِس کے بعد آخر میں آتا ہے  ثُمَّ لِعَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ( ص ٤١٠)۔ (مطبوعہ مکہ مکرمہ بامر جلالة الملک عبد العزیز   آل سعود  ١٣٤٩ئ) 
(٢)  مسامرہ میں ہے  :  
الف  :  (ثُمَّ عَلِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ) اَجْمَعِیْنَ وَانْعَقَدَتْ اِمَامَتُہ بِمُبَایَعَةِ اَھْلِ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ ۔( ص ٣٠٠ مطبوعہ مصر) 
ب  :  اَلْاَصْلُ الثَّامِنُ فَضْلُ الصَّحَابَةِ  (الْاَرْبَعَةِ)  الْخُلَفَاء  (عَلٰی حَسْبِ تَرْتِیْبِھِمْ فِی الْخِلَافَةِ)  اَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ ثُمَّ عَلِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ۔ (ص ٣١٢) 
ج  :  (وَلَمَّا اَجْمَعُوْا)  یَعْنِی الصَّحَابَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ  (عَلٰی تَقْدِیْمِ عَلِیٍّ بَعْدَھُمْ)  اَیْ بَعْدَ الثَّلاثَةِ اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ وَ عُثْمَانَ  (دَلَّ)  اِجْمَاعُھُمْ  (عَلٰی اَنَّہ کَانَ اَفْضَلَ مَنْ بِحَضْرَتِہ)  مِنَ الصَّحَابَةِ   الخ ۔ (ص ٣١٣)
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا علی بیّض اللہ وجہہ' ورضی عنہ کے اختلاف کی نوعیت واضح فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں  : 
د  :  وَمَاجَرٰی بَیْنَ مُعَاوِیَةَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کَانَ مَبْنِیًّا عَلَی الْاِجْتِہَادِ لَامُنَازَعَةَ مِنْ مُّعَاوِیَةَ فِی الْاِمَامَةِ  الخ۔ (ص ٣١٤ )
عقائد کی اور کتابوں میں بھی یہی مضمون ہے۔ زیادہ حوالے بار ِخاطر ہوں گے اور سمجھنے کے لیے یہ بھی کافی ہیں۔ باقی حضرت عائشہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیروغیرہم نے آخر میں پھر حضرت سیدنا علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنہم) کی طرف رجوع کرلیا تھا۔ ثبوت کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب  کی کتابیں دیکھیں۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف ٓغاز 3 1
4 اچھا اِنسان : 6 54
5 بُرا اِنسان : 7 54
6 اِنسانوں میں اَخلاق کی تقسیم : 7 54
7 کامل مسلمان : 7 54
8 ملفوظات شیخ الاسلام 8 1
9 معارف و حقائق : 8 8
11 حکیم فیض عالم صدیقی کی بے راہ رَوی حضرتِ اقدس اور حکیم فیض عالم صدیقی ١ کے درمیان خط و کتابت 13 1
12 حضرت ِ اقدس کا خط 13 11
13 (٢) مسامرہ میں ہے : 14 11
14 حکیم فیض عالم صدیقی کا خط 19 11
16 عورتوں کے رُوحانی اَمراض 26 1
17 مانگی ہوئی چیز واپس نہ کرنا : 26 16
18 دُوسرے کا سامان برتن وغیرہ واپس نہ کرنا : 26 16
19 شب ِقدر کی دُعائ 26 16
20 قرض لے کر نہ دینا : 28 16
21 بعض دین دار عورتوں کی کوتاہی : 28 16
22 رشتہ داروں سے پردہ میں کوتاہی : 29 16
24 سالانہ اِمتحانی نتائج 30 1
25 صدقۂ فطر کے احکام 35 1
26 صدقہ فطر کس پر واجب ہے : 35 25
27 صدقہ فطر کے فائدے : 35 25
28 کس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کیا جائے : 36 25
29 صدقہ فطر میں کیا دیا جائے : 36 25
30 جس نے روزے نہ رکھے ہوں اُس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے : 38 25
31 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 38 25
32 صدقہ فطر کی ادائیگی میں کچھ تفصیل : 38 25
33 صاحب نصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں : 38 25
34 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل : 38 25
35 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے : 39 25
36 نوکروں کو صدقہ دینا : 39 25
37 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو : 39 25
38 قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل 39 1
39 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
40 درس ِ حدیث 43 1
41 حسرت 44 1
42 گلدستہ ٔ احادیث 45 1
43 حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہر مہینہ تین روزے رکھا کرتے تھے : 45 42
44 وفیات 48 1
45 یہودی خباثتیں 50 1
46 ماسونیت : (FREEMASONRY) 50 45
47 ''آزادی، بھائی چارہ، برابری'' 50 45
48 دینی مسائل 57 1
49 ( بیوی کا مجامعت میں حق ) 57 48
50 نامردی کی بناء پر فسخ ِنکاح کی تفصیل : 58 48
51 علیحدگی حاصل کرنے کا طریقہ کار : 58 48
52 اگر خاوند جماع کا دعوی کرے تو اُس وقت یہ تفصیل ہے : 59 48
53 اَخبار الجامعہ 60 1
54 درس حدیث 6 1
Flag Counter