ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
نہیں کروں گا اور اِس کے راز افشاء نہیں کروں گا نہ اِشارہ سے گفتگو سے اور نہ حرکات و سکنات سے نہ میں اُسے لکھوں گا نہ اُسے چھاپ کر نہ کھود کر یا تصویر کے ذریعہ پھیلائوں گا۔ میں اِس پر راضی ہوں کہ اگر میں قسم کے خلاف کروں تو میرے دونوں ہونٹ جلتے ہوئے لوہے سے جلادیئے جائیں اور میرے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے جائیں اور میری گردن کاٹ دی جائے اور ماسونی محفل میں میرے جسم کو لٹکادیا جائے تاکہ دُوسرے ممبر کے لیے عبرت ہو پھر میرا جسم جلاکر اُس کی راکھ ہوا میں اُڑادی جائے تاکہ میرے گناہ کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔'' ١
ماسونی شخص جب ماسونی مقامات طے کرکے صدورِ محفل کا اعتماد حاصل کرلیتا ہے تب اُس کی شخصیت کو مٹاکر اُس کے خاندان، اُس کی سوسائٹی اور اُس کے ماحول سے اُس کو جدا کردیا جاتا ہے اور اُس کے تمام سابق روابط و تعلقات توڑدیئے جاتے ہیں اور اِس سے یوں قسم لی جاتی ہے :
''میں قسم کھاتا ہوں کہ ہر انسان سے اپنے ہر طرح کے تعلقات منقطع کرتا ہوں جیسے باپ، ماں، بھائی، بہن، شوہر یا بیوی یا اَقارب اور دوست و اَحباب جن کے ساتھ میں نے امانت اور اطاعت کا معاہدہ کررکھا تھا یا شکر گزاری اور خدمت کا۔'' ٢
ماسونیت کے بارے میں بعض یورپین اہل الرائے کی آراء ذیل میں درج کی جاتی ہیں :
مسٹر ''سانڈرسن'' اپنی کتاب (That Which Was Lost) (شائع شدہ برطانیہ ١٧٢٣ئ) میں لکھتا ہے یہ اِس آخری مرحلہ کی بات ہے جب ماسونی تحریک اپنے نئے لباس میں سامنے آئی۔
''یہ بہت آسان ہے لیکن خلافِ انصاف ہے کہ ہم اِن بانیوں پر تنقید کریں جنہوں نے یہودی روایات کا تعارف کرایا اُنہوں نے ایک طویل کوشش عہد جدید (انجیل) میں تحریف کی تاکہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرسکیں۔''
خفیہ سوسائٹیe Romaine Haut Vent کے یہودی صدرPiccolo Tigar نے ١٨ جنوری ١٨٢٢ء میں کہا تھا :
١ الماسونیة از محمد علی الزغبی مکتبة العرفان بیروت ١٩٥٦ء ٢ الماسونیة از محمد علی الزغبی مکتبة العرفان بیروت ١٩٥٦ء