ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
اكستان |
|
بعض لوگ ٩٢/٧٨٦ بھی لکھتے ہیں اور ٩٢ سے حضور نبی کریم ۖ کے اسم ِ مقدس سے مراد لیتے ہیں۔ یہ جہالت علی جہالت ہے۔ نبی اکرم ۖ کے اسم ِ مقدس محمد ۖ میں بلحاظ ابجدی علم م تین بار آتا ہے اور مجموعہ اعداد ١٣٢ ہے۔ آئیے آپ کو بتائوں کہ یہ ٩٢ کیا ہے؟ جناب یہ لفظ ''امامی'' کے عدد ہیں۔ امیر المؤمنین علیہ السلام ''امامی'' کو آج تک یہ سنی مسلمان کیا سمجھتے آرہے ہیں۔ آپ کی مستند کتب کے حواشی پر فقرات کے خاتمہ پر ١٢ کا ہندسہ ہوتا ہے۔ یہ بھی آپ جیسے فضیلت ماٰب کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ ١٢ کو فورًا حد کہہ دیں گے۔ مگر غالب علیہ ما علیہ اِس کا مفہوم واضح کرگیا۔ چنانچہ حاتم علی بیگ اپنے ایک شاگرد کو لکھتا ہے۔ صاحب بندہ اِثنا عشری ہوں۔ ہر مطلب کے خاتمہ پر ١٢ کا ہندسہ کرتا ہوں۔ خدا کرے کہ میرا بھی خاتمہ اِسی عقیدہ پر ہو۔ (خطوط غالب ص ٢٢١) یہ ١٢ کا ہندسہ شیعوں کا بارہ امامی اِشارہ ہے اور ہمارے حواشی نویس ہیں کہ اندھا دُھند گھسیٹے چلے جارہے ہیں۔ حافظ شیرازی علیہ ما علیہ نے بھی ١٢ کی تشریح کی ہے۔ بہ دُشمناں منشیں حافظا تو لاکن نجات خویش طلب کن بجان ہشت و چہار حرامزادہ و بدخصل و شوم و بے بنیاد بمدح شاہ جہاں کے کند اِقرار حضرت جی! آپ شیعیت کے حربوں سے محض بے بہرہ ہیں اور بالکل غیر محسوس طریقے سے شیعیت کا ایک طرح سے پرچار کررہے ہیں۔ مجھے حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کا ایک واقعہ یاد آیا ہے۔ مرحوم جب آپ کی طرح سوچتے تھے تو اُن دنوں صوفی عبد اللہ دیوبند پہنچے۔ آپ ترمذی پڑھارہے تھے۔ کوئی ایسی حدیث سامنے تھی جس سے مسلک اہل ِ حدیث کی تائید ہوتی تھی مگر مرحوم گھوم پھر کر اِس کی تردید کررہے تھے۔ صوفی عبد اللہ پوچھ بیٹھے حضرت آپ حدیث پڑھارہے ہیں یا اِس کی تردید کررہے ہیں۔ پوچھا تم کون ہو؟ کہا غیر مقلد ہوں۔ بس بے بھائو کی پڑنی شروع ہوگئیں۔ بھاگتے اسٹیشن پر پہنچے تو چند طلباء نظر آئے۔ اُنہوں نے کہا میاں ہم دو تین سو اہل ِ حدیث طلباء یہاں حنفی بن کر پڑھ رہے ہیں اگر اِن کو معلوم ہوجائے تو ہمارے بُھرتہ کردیں۔ اِس واقعہ سے متأثر ہوکر صوفی صاحب نے ماموں کانجن میں مدرسہ کی بنیاد رکھی۔