Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007

¾اكستان Ù

24 - 64
٧۔  حضرت جی !  آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میں مجتہد ہوں، حافظ الحدیث ہوں، محقق ہوں۔ شہادتِ ذوالنورین پر ناشر نے محقق کا لفظ میری اجازت کے بغیر لکھ دیا۔ اُس سے پوچھ کر دیکھئے کہ اِس سلسلہ میں اِس فقیر نے اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ 
مجتہد اور حافظ الحدیث کے لفظ لکھ کر کیا آپ نے اِفتراء و بہتان کا اِرتکاب نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈریئے۔ رہ گیا مصنف یا مؤلف ہونا تو یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور میں تحدیث ِ نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں شکر گزار ہوں کہ جب بڑے بڑے حاملین جبہ و دستار اور مسند نشینانِ درس و اِرشاد  …  رفض کی طرف منہ کرنا تو درکنار اپنے محراب و منبر سے صدیق اکبر اور فاروقِ اعظم کے مناقب بیان کرنے سے بھی ترساں ہیں۔ میں نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ عرب ممالک ،امریکہ، انگلینڈ، جنوبی ہند اور بنگال تک اپنی اِستعداد کے مطابق شانِ صحابہ کی آواز پہنچائی اور مجھے اِس پر فخر ہے ناز ہے۔ اور میں اِسے موجب ِ نجات سمجھتا ہوں۔ رہا آپ کا یہ اِرشاد کہ ایسے آدمی کے لیے ایسے موضوع پرقلم اُٹھانا خطرناک ہے۔ حضرت جی!  مزدور آدمی ہوں، تمام زندگی اِسلام کے لیے سینہ سپر رہا۔مسجدیں بنوائیں، مدرسے بنوائے اور آج تک ایک دَمڑی تک نقد یا ایک وقت کی روٹی کسی کے گھر سے کھانا حرام سمجھی۔ یقین نہ آئے تو آکر دیکھ لیجئے۔ 
اور جس موضوع کو آپ خطرناک سمجھتے ہیں وہ میرے لیے خطرناک نہیں آپ کے لیے خطرناک ہے کہ جن کے مدارس سے فارغ التحصیل   اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ  تو لے کر نکلتے ہیں مگر  ثَانِیَ اثْنَیْنِ کی تفسیر کے  مفہوم سے کورے ہوتے ہیں۔ سید الشہداء حسین کے نعرے تو لے کر نکلتے ہیں مگر اصل سید الشہداء حمزہ کے   نام سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ سیدہ فاطمہ کی شان ِاقدس میں سبائی روایات کا ذخیرہ تو بغل میں دبائے ہوتے ہیں مگر افضل البناتی سیدہ زینب کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ 
٨۔  ٧٨٦  اور  ٧٨٧  کا مفہوم آپ کی فضیلت سے بہت نیچے ہے۔ آپ اِسے سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ کی فضیلت کے منافی ہوگا۔ حضرت جی!  میں نے لکھا تھا کہ بسم اللہ کے عدد  ٧٨٦  نہیں آپ نے یا آپ کے بزرگوں نے کبھی اِس طرف توجہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ 
بسم اللہ کے عدد حروفِ ابجد کے قاعدہ کے مطابق ٧٨٧ ہیں، ٧٨٦ عدد ہیں ''امیر المؤمنین علیہ السلام'' کے۔ اور آپ بسم اللہ ترک کرکے اپنے خطوط کو ''امیر المؤمنین علیہ السلام'' سے شروع کرتے ہیں۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف ٓغاز 3 1
4 اچھا اِنسان : 6 54
5 بُرا اِنسان : 7 54
6 اِنسانوں میں اَخلاق کی تقسیم : 7 54
7 کامل مسلمان : 7 54
8 ملفوظات شیخ الاسلام 8 1
9 معارف و حقائق : 8 8
11 حکیم فیض عالم صدیقی کی بے راہ رَوی حضرتِ اقدس اور حکیم فیض عالم صدیقی ١ کے درمیان خط و کتابت 13 1
12 حضرت ِ اقدس کا خط 13 11
13 (٢) مسامرہ میں ہے : 14 11
14 حکیم فیض عالم صدیقی کا خط 19 11
16 عورتوں کے رُوحانی اَمراض 26 1
17 مانگی ہوئی چیز واپس نہ کرنا : 26 16
18 دُوسرے کا سامان برتن وغیرہ واپس نہ کرنا : 26 16
19 شب ِقدر کی دُعائ 26 16
20 قرض لے کر نہ دینا : 28 16
21 بعض دین دار عورتوں کی کوتاہی : 28 16
22 رشتہ داروں سے پردہ میں کوتاہی : 29 16
24 سالانہ اِمتحانی نتائج 30 1
25 صدقۂ فطر کے احکام 35 1
26 صدقہ فطر کس پر واجب ہے : 35 25
27 صدقہ فطر کے فائدے : 35 25
28 کس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کیا جائے : 36 25
29 صدقہ فطر میں کیا دیا جائے : 36 25
30 جس نے روزے نہ رکھے ہوں اُس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے : 38 25
31 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 38 25
32 صدقہ فطر کی ادائیگی میں کچھ تفصیل : 38 25
33 صاحب نصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں : 38 25
34 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل : 38 25
35 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے : 39 25
36 نوکروں کو صدقہ دینا : 39 25
37 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو : 39 25
38 قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل 39 1
39 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
40 درس ِ حدیث 43 1
41 حسرت 44 1
42 گلدستہ ٔ احادیث 45 1
43 حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہر مہینہ تین روزے رکھا کرتے تھے : 45 42
44 وفیات 48 1
45 یہودی خباثتیں 50 1
46 ماسونیت : (FREEMASONRY) 50 45
47 ''آزادی، بھائی چارہ، برابری'' 50 45
48 دینی مسائل 57 1
49 ( بیوی کا مجامعت میں حق ) 57 48
50 نامردی کی بناء پر فسخ ِنکاح کی تفصیل : 58 48
51 علیحدگی حاصل کرنے کا طریقہ کار : 58 48
52 اگر خاوند جماع کا دعوی کرے تو اُس وقت یہ تفصیل ہے : 59 48
53 اَخبار الجامعہ 60 1
54 درس حدیث 6 1
Flag Counter