ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
٧۔ حضرت جی ! آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میں مجتہد ہوں، حافظ الحدیث ہوں، محقق ہوں۔ شہادتِ ذوالنورین پر ناشر نے محقق کا لفظ میری اجازت کے بغیر لکھ دیا۔ اُس سے پوچھ کر دیکھئے کہ اِس سلسلہ میں اِس فقیر نے اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ مجتہد اور حافظ الحدیث کے لفظ لکھ کر کیا آپ نے اِفتراء و بہتان کا اِرتکاب نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈریئے۔ رہ گیا مصنف یا مؤلف ہونا تو یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور میں تحدیث ِ نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں شکر گزار ہوں کہ جب بڑے بڑے حاملین جبہ و دستار اور مسند نشینانِ درس و اِرشاد … رفض کی طرف منہ کرنا تو درکنار اپنے محراب و منبر سے صدیق اکبر اور فاروقِ اعظم کے مناقب بیان کرنے سے بھی ترساں ہیں۔ میں نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ عرب ممالک ،امریکہ، انگلینڈ، جنوبی ہند اور بنگال تک اپنی اِستعداد کے مطابق شانِ صحابہ کی آواز پہنچائی اور مجھے اِس پر فخر ہے ناز ہے۔ اور میں اِسے موجب ِ نجات سمجھتا ہوں۔ رہا آپ کا یہ اِرشاد کہ ایسے آدمی کے لیے ایسے موضوع پرقلم اُٹھانا خطرناک ہے۔ حضرت جی! مزدور آدمی ہوں، تمام زندگی اِسلام کے لیے سینہ سپر رہا۔مسجدیں بنوائیں، مدرسے بنوائے اور آج تک ایک دَمڑی تک نقد یا ایک وقت کی روٹی کسی کے گھر سے کھانا حرام سمجھی۔ یقین نہ آئے تو آکر دیکھ لیجئے۔ اور جس موضوع کو آپ خطرناک سمجھتے ہیں وہ میرے لیے خطرناک نہیں آپ کے لیے خطرناک ہے کہ جن کے مدارس سے فارغ التحصیل اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ تو لے کر نکلتے ہیں مگر ثَانِیَ اثْنَیْنِ کی تفسیر کے مفہوم سے کورے ہوتے ہیں۔ سید الشہداء حسین کے نعرے تو لے کر نکلتے ہیں مگر اصل سید الشہداء حمزہ کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ سیدہ فاطمہ کی شان ِاقدس میں سبائی روایات کا ذخیرہ تو بغل میں دبائے ہوتے ہیں مگر افضل البناتی سیدہ زینب کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ ٨۔ ٧٨٦ اور ٧٨٧ کا مفہوم آپ کی فضیلت سے بہت نیچے ہے۔ آپ اِسے سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ کی فضیلت کے منافی ہوگا۔ حضرت جی! میں نے لکھا تھا کہ بسم اللہ کے عدد ٧٨٦ نہیں آپ نے یا آپ کے بزرگوں نے کبھی اِس طرف توجہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ بسم اللہ کے عدد حروفِ ابجد کے قاعدہ کے مطابق ٧٨٧ ہیں، ٧٨٦ عدد ہیں ''امیر المؤمنین علیہ السلام'' کے۔ اور آپ بسم اللہ ترک کرکے اپنے خطوط کو ''امیر المؤمنین علیہ السلام'' سے شروع کرتے ہیں۔