ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت جی! طلباء کے گھیرے سے باہر نکل کر دُنیا کی فضا دیکھئے۔ علم چند کتابوں کو پڑھ کر پڑھا دینے کا نام نہیں علم کا مفہوم ذرا وسیع ہے۔ ٦۔ سیدنا علی کا حدیث میں حصّہ اور اِس پر آپ کا اس فقیر کے حق میں یہ سرٹیفکیٹ کہ یہ بات علم ِ حدیث سے بہت زیادہ ناواقف ہونے کا پتہ دیتی ہے، بجا اِرشاد۔ کیا آپ تکلیف فرماکر یہ اَعداد و شمار پڑھنے کی زحمت گوارہ فرمائیں گے۔ ١۔ صدیقۂ کائنات اُم المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ کی مرویات دو ہزار سے زیادہ ہیں۔ ٢ ، ٣۔ حضرت ابن ِ عمر اور حضرت انس کی مرویات بھی اِسی کے لگ بھگ ہیں۔ ٤۔ حضرت ابوہریرہ پانچ ہزار مرفوع اور تین صد غیر مرفوعہ۔ ٥۔ حضرت ابن ِ مسعود آٹھ صد سے زائد۔ حضرت ابن ِ عمر،ابن ِ مسعود اور صدیقۂ کائنات کے فتاوی سیدنا علی سے زیادہ ہیں۔ ٦۔ حضرت ابن ِ عباس کی مرویات ڈیڑھ ہزار سے زائد ہیں اور آپ کے فتاوی اور تفسیری اَقوال کا تو شمار ہی نہیں۔ ٧۔ سیدنا عمر کی مرویات ٥٣٧ ہے اور سیدنا علی کی مرویات سیدنا عمر سے صرف ٤٩ ہی زیادہ ہیں۔ مگر حضرت علی حضرت عمر کی شہادت کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ اِس لحاظ سے اُن کی مرویات کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے تھی مگر احادیث ِ صحیحہ کا اعتبار کیا جائے تو سیدنا علی کی مرویات سیدنا عمر سے دو یا تین ہی زیادہ نکلتی ہیں۔ فقہی مسائل میں ہر دو اَصحاب کی تعداد تقریبًا برابر ہے۔ یہاں پھر اِسی بات کو دوہراتا ہوں کہ سیدنا علی کے فقہی مسائل کی تعداد سیدنا عمر کے فقہی مسائل سے دُگنی ہونا چاہیے تھی۔ میں تو کہوں گا … کہ میں تو علم ِ حدیث سے ناواقف ہوں مگر آپ کی واقفیت کچھ حجاب اکبر کی قسم کی نظر آتی ہے۔ غالبًا آپ کی نظروں سے بخاری و مسلم کی ایسی حدیث نہ گزری ہوں جن سے حضراتِ شیخین کے علم و فضل پر روشنی پڑتی ہے۔ ابوسعید خدری کی روایت کہ نبی علیہ السلام نے خواب میں سیدنا عمر کو دیکھا کہ لمبی قمیص پہنے ہوئے گزر رہے ہیں جس سے آپ نے دین مراد لیا اور ابن ِ مسعود نے آپ کی شہادت پر فرمایا علم کے نو حصّے رُخصت ہوگئے باقی ایک حصّے میں ہم سب شریک ہیں۔