ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
کرنے والے کو کم فہم اور اِس فقیر کو یہ لکھنے پر اُدھار کھائے بیٹھے ہیں کہ ''تمہاری تو عادت ہی یہی ہے۔'' میثاق موجود نہ تھا تو منگواکر دیکھ لیا ہوتا اور پھر اِلزام تراشی کی جاتی۔ میں اَب دوبارہ پوری عبارت لکھ رہا ہوں۔ شاید آپ کو کچھ خدا کا خوف آجائے۔ یہ ستمبر اور اکتوبر کا شمارہ ہے۔ مضمون کو لکھنے والے پروفیسر یوسف سلیم ہیں۔ اِس شمارے کا صفحہ ٤٠ ہے اور پندرھویں سطر سے عبارت یوں شروع ہوتی ہے۔ اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ یا اَنَا دَارُ الْحِکْمَةِ وَعَلِیّ بَابُھَا شیخ الاسلام آیة من آیات اللہ مجاہد اعظم حضرت سیدی و شیخی مولوی سید حسین احمد صاحب مدنی قدس سرہ العزیز مکتوب نمبر ٧٥ صفحہ ١٧٩۔١٨٠ پر تحریر فرماتے ہیں : یہ روایت نہ تو صحیحین میں ہے اور نہ روایت کا ذکر کرنے والے اِس کی تصحیح فرماتے ہیں۔ ترمذی نے بھی روایت کرنے کے بعد کلام کیا ہے کہ بعض علماء نے یہ حدیث شریک تابعی سے روایت کی ہے مگر علمائے حدیث اِس کو ثقات میں سے نہیں پہچانتے سوائے شریک کے۔ علامہ ابن ِ جوزی نے موضوعات میں اِس کے جملہ طریق پر یقین کے ساتھ باطل ہونے کا حکم دیا ہے۔ ایک جماعت محدثین کی اِس کے موضوع ہونے کی قائل ہے۔ امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین صاحب فرماتے ہیں کہ اِس روایت کی سرے سے کوئی اصل ہی نہیں۔ طاہر پٹنی نے بھی اِس کی صحت کا انکار کیا ہے۔ امام العصر (مولانا انور شاہ صاحب) بھی روایت کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ (حاشیہ از مولانا نجم الدین صاحب اِصلاحی مرتب مکتوبات شیخ الاسلام ماخوذ از مکتوبات شیخ الاسلام حصہ اوّل اُردو بک سٹال لاہور) اَب یہ لفظی بحث جو آپ نے پیدا کی ہے کہ امام العصر فلاں ہیں فلاں نہیں اور یوں ہے وُوں نہیں مجھے اِس سے کوئی غرض نہیں۔ مجھے نہ کسی امام العصر کی امامت کا علم ہے اور نہ کسی کے شیخ الاسلام ہونے کا۔ میں تو آپ جیسے صاحبان علم و فضل کے رِسائل و اَخبارات کے مضامین پڑھ کر مجتہد اور محقق بن گیا ہوں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ زندگی طلباء میں نہیں گزری کہ جہاں کسی نے کوئی اِعتراض کیا اُسے لتاڑدیا اور وہی عادت پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے دُہرانے پر اپنے آپ کو مجبور پایا۔