Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007

اكستان

21 - 64
اِسلامی ریاست کی بنیاد معاہدہ یہود کے وقت رکھی گئی۔ سیدنا عثمان کی شہادت کے وقت ٣٥۔٣٦ سال ہوگئے۔ پھر   فَاِنْ یَّھْلِکُوْا فَسَبِیْلُ مَنْ ھَلَکَ کا دَور شروع ہوا۔ پھر سیدنا معاویہ سے  یَقُمْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا کا دَور شروع ہوا۔ یہ تشریح ہے  اَلْخِلَافَةُ بِالْمَدِیْنَةِ وَالْمُلْکُ بِالشَّامِ  کی۔ 
جنابِ محترم!  کتابیں چاٹنے کا نام علم نہیں۔ علم نام ہے سمجھنے کا اور یہ سمجھ  ؟
باقی نہ رہی تیری وہ آئنہ ضمیری	اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری 
  میں ببانگ دہل یہ کہنے کے لیے تیار ہوں کہ علمائے دیوبند کی باتوں میں تعارض ہی تعارض ہے۔ آپ اپنی فضیلت کے اَنبار سے نکلیے اور خون کے آنسو اور زلزلہ کا مطالعہ کیجیے۔ 
حضرت جی!  گو اِن کتب کے دیکھنے سے مجھے خودگو قلبی طور پر رَنج پہنچا ہے مگر میری طرف سے یہ قبول فرمائیے کہ ہر دو کتب کا ایک حوالہ بھی آپ غلط ثابت نہیں کرسکتے۔ میرا مقصد یہاں اِن کتب کے نفس مضمون کی صحت و صداقت یا کذب و بہتان سے نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ علمائے دیوبند کے کلام میں تضاد  ہی تضاد ہے۔ 
آپ مجھے علم سے تہی دامن یا جاہل جو چاہیں کہیں مگر زلزلہ اور خون کے آنسو کا جواب علماء دیوبند  سے ناممکن ہے  وَلَوْکَانَ بَعْضُھُمْ  لِبَعْضِھِمْ  ظَہِیْرًا۔ 
میں یہاں آپ کے کلام سے ہی آپ کا تضاد پیش کرتا ہوں۔ آپ نے اپنے دُوسرے مکتوب میں خود فرمایا تھا  : 
یہ حدیث نہ باطل ہے نہ صحت کے درجہ کو پہنچتی ہے۔ 
اوّل تو یہ فقرہ ہی اَدبی لحاظ سے غلط ہے اور پھر اِسی آپ کے فقرہ کو جب میں نے نقل کیا تو آپ مجھ پر برس پڑے اور میری طرف منسوب کرکے لکھ دیا کہ آپ کے یہ لفظ بھی ذومعنٰی ہیں۔ 
میں آپ کے اَلفاظ بھی نقل کروں تو آپ کل کی بات بھول جائیں اور مجھے لکھیں کہ آپ کے یہ لفظ بھی ذومعنٰی ہیں۔ 
میں نے مولانا حسین احمد صاحب کے مکتوبات کے متعلق جو کچھ لکھا تھا آپ خواہ مخواہ عبارت نقل
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف ٓغاز 3 1
4 اچھا اِنسان : 6 54
5 بُرا اِنسان : 7 54
6 اِنسانوں میں اَخلاق کی تقسیم : 7 54
7 کامل مسلمان : 7 54
8 ملفوظات شیخ الاسلام 8 1
9 معارف و حقائق : 8 8
11 حکیم فیض عالم صدیقی کی بے راہ رَوی حضرتِ اقدس اور حکیم فیض عالم صدیقی ١ کے درمیان خط و کتابت 13 1
12 حضرت ِ اقدس کا خط 13 11
13 (٢) مسامرہ میں ہے : 14 11
14 حکیم فیض عالم صدیقی کا خط 19 11
16 عورتوں کے رُوحانی اَمراض 26 1
17 مانگی ہوئی چیز واپس نہ کرنا : 26 16
18 دُوسرے کا سامان برتن وغیرہ واپس نہ کرنا : 26 16
19 شب ِقدر کی دُعائ 26 16
20 قرض لے کر نہ دینا : 28 16
21 بعض دین دار عورتوں کی کوتاہی : 28 16
22 رشتہ داروں سے پردہ میں کوتاہی : 29 16
24 سالانہ اِمتحانی نتائج 30 1
25 صدقۂ فطر کے احکام 35 1
26 صدقہ فطر کس پر واجب ہے : 35 25
27 صدقہ فطر کے فائدے : 35 25
28 کس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کیا جائے : 36 25
29 صدقہ فطر میں کیا دیا جائے : 36 25
30 جس نے روزے نہ رکھے ہوں اُس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے : 38 25
31 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 38 25
32 صدقہ فطر کی ادائیگی میں کچھ تفصیل : 38 25
33 صاحب نصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں : 38 25
34 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل : 38 25
35 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے : 39 25
36 نوکروں کو صدقہ دینا : 39 25
37 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو : 39 25
38 قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل 39 1
39 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
40 درس ِ حدیث 43 1
41 حسرت 44 1
42 گلدستہ ٔ احادیث 45 1
43 حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہر مہینہ تین روزے رکھا کرتے تھے : 45 42
44 وفیات 48 1
45 یہودی خباثتیں 50 1
46 ماسونیت : (FREEMASONRY) 50 45
47 ''آزادی، بھائی چارہ، برابری'' 50 45
48 دینی مسائل 57 1
49 ( بیوی کا مجامعت میں حق ) 57 48
50 نامردی کی بناء پر فسخ ِنکاح کی تفصیل : 58 48
51 علیحدگی حاصل کرنے کا طریقہ کار : 58 48
52 اگر خاوند جماع کا دعوی کرے تو اُس وقت یہ تفصیل ہے : 59 48
53 اَخبار الجامعہ 60 1
54 درس حدیث 6 1
Flag Counter