ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
اكستان |
|
اِسلامی ریاست کی بنیاد معاہدہ یہود کے وقت رکھی گئی۔ سیدنا عثمان کی شہادت کے وقت ٣٥۔٣٦ سال ہوگئے۔ پھر فَاِنْ یَّھْلِکُوْا فَسَبِیْلُ مَنْ ھَلَکَ کا دَور شروع ہوا۔ پھر سیدنا معاویہ سے یَقُمْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا کا دَور شروع ہوا۔ یہ تشریح ہے اَلْخِلَافَةُ بِالْمَدِیْنَةِ وَالْمُلْکُ بِالشَّامِ کی۔ جنابِ محترم! کتابیں چاٹنے کا نام علم نہیں۔ علم نام ہے سمجھنے کا اور یہ سمجھ ؟ باقی نہ رہی تیری وہ آئنہ ضمیری اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری میں ببانگ دہل یہ کہنے کے لیے تیار ہوں کہ علمائے دیوبند کی باتوں میں تعارض ہی تعارض ہے۔ آپ اپنی فضیلت کے اَنبار سے نکلیے اور خون کے آنسو اور زلزلہ کا مطالعہ کیجیے۔ حضرت جی! گو اِن کتب کے دیکھنے سے مجھے خودگو قلبی طور پر رَنج پہنچا ہے مگر میری طرف سے یہ قبول فرمائیے کہ ہر دو کتب کا ایک حوالہ بھی آپ غلط ثابت نہیں کرسکتے۔ میرا مقصد یہاں اِن کتب کے نفس مضمون کی صحت و صداقت یا کذب و بہتان سے نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ علمائے دیوبند کے کلام میں تضاد ہی تضاد ہے۔ آپ مجھے علم سے تہی دامن یا جاہل جو چاہیں کہیں مگر زلزلہ اور خون کے آنسو کا جواب علماء دیوبند سے ناممکن ہے وَلَوْکَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضِھِمْ ظَہِیْرًا۔ میں یہاں آپ کے کلام سے ہی آپ کا تضاد پیش کرتا ہوں۔ آپ نے اپنے دُوسرے مکتوب میں خود فرمایا تھا : یہ حدیث نہ باطل ہے نہ صحت کے درجہ کو پہنچتی ہے۔ اوّل تو یہ فقرہ ہی اَدبی لحاظ سے غلط ہے اور پھر اِسی آپ کے فقرہ کو جب میں نے نقل کیا تو آپ مجھ پر برس پڑے اور میری طرف منسوب کرکے لکھ دیا کہ آپ کے یہ لفظ بھی ذومعنٰی ہیں۔ میں آپ کے اَلفاظ بھی نقل کروں تو آپ کل کی بات بھول جائیں اور مجھے لکھیں کہ آپ کے یہ لفظ بھی ذومعنٰی ہیں۔ میں نے مولانا حسین احمد صاحب کے مکتوبات کے متعلق جو کچھ لکھا تھا آپ خواہ مخواہ عبارت نقل