ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
ہو تو حسن نہیں ہوسکتی؟ یہاں آپ نے اپنی بے لگام عادت کے مطابق اُصولِ حدیث کا مذاق اُڑایا ہے اور میرا نہیں بلکہ حافظ ابن ِ حجر کا جن کی ضرورت آپ کو قدم قدم پر پڑتی ہے۔ اچھا اَب آپ ہی بتائیں کہ صحیح حسن ضعیف اور موضوع کی تعریف آپ کے نزدیک کیا ہے؟ مذکورہ عبارت کے تحت تو صحیح اَحادیث کے سواء سب باطل میں داخل ہونی چاہئیں یعنی ''جھوٹ'' میں۔ بَیِّنُوْ تُوْجَرُوْا۔ (ب) اور ذرا یہ بھی بتائیے کہ اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ صحیح ہے۔ اگر صحیح ہے تو کیونکر؟ ورنہ آپ کے مَن گھڑت قاعدہ کے مطابق ''جھوٹ'' ہوگی۔ اور اگر جھوٹ ہے تو آپ نے اپنی کتاب کے سر ورق پر کیوں دی ہے؟ بَیِّنُوْ تُوْجَرُوْا۔ ہم جیسے تو لکھتے آئے ہیں آپ جیسے علامۂ زمن نے کیوں لکھی، وجہ اِرشاد فرمائیں؟ ابن ِ ابی شیبہ عبد الرزاق حاکم بیہقی وغیرہ سے اگر آپ کی ملاقات ہوجاتی تو شاید آپ اُنہیں فربہ کتابوں کے لکھنے سے روک دیتے کیونکہ بیہقی جیسی کتابوں کا نام آپ نے ''فربہ قسم کی کتابیں'' تجویز کیا ہے۔ اِس سے یہ واضح ہورہا ہے کہ میرا خیال درُست تھا کہ آپ اُردو کے رِسالوں سے ہی کام چلا لیتے ہوں گے، اِن سے سستی شہرت حاصل ہوجاتی ہے۔ اَصل ماخذ دیکھنے میں محنت کرنی پڑتی ہے۔ اِدھر مجتہد حافظ الحدیث محقق مصنف اور مؤلف کہلانے کا شوق زور کرتا ہوگا اِس لیے رِسالہ لکھ مارتے ہیں حالانکہ ایسے آدمی کے لیے ایسے نازک موضوعات پر قلم اُٹھانا نہایت خطرناک ہے۔ آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آج علم ِ حدیث کا جو ذخیرہ ہے اُس میں سیدنا علی کا کتنا حصّہ ہے؟ حضور! وہ اِتنا ہے کہ میرے خط یا آپ کے رِسالوں میں نہیں سماسکتا۔ اُس کے اِستخراج کے لیے آپ کو ذرا اِستعداد بنانی ہوگی کیونکہ وہاں حاشیے نہیں ملیں گے، ترجمہ بھی نہیں ملے گا اور ''فربہ قسم کی'' کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑے گا تب پتہ چلے گا اور آپ کا یہ سوال خود علم ِ حدیث سے بہت زیادہ ناواقف ہونے کا پتہ دیتا ہے اِسی لیے میں نے آپ سے پہلے پوچھا تھا کہ کہاں پڑھا ہے؟ کتنا پڑھا ہے؟ وَاِذَا لَمْ تَرَ الْھِلَالَ فَسَلِّم لِاُنَاسٍ رَأَوْہُ بِالْاَبْصَار میں آپ کے سیدھے سادے مسلمان ہونے کا مطلب یہی سمجھا تھا جو آپ کی کتابوں سے معلوم ہوا۔ اِسی لیے میں نے لکھا تھا ''جس طرح آپ مجتہد ہیں میں بھی مجتہد بن کر کیوں نہ لکھوں'' حضرت ِ اقدس مدنی نور اللہ مرقدہ' کے مکتوب کا حوالہ میرے پاس تھا، میرے علم میں تھا، میں نے اُس وقت نہیں لکھا تھا اَب