ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
اكستان |
|
آپ کے لکھنے پر لکھا ہے۔ چونکہ آپ لوگ اکثر اُردو کے رسائل اور چند حدیثیں پڑھنے کے بعد اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے لگتے ہیں اِس لیے میں آپ جیسے حضرات سے فقط حدیث اور اُصولِ حدیث کی زبان میں بات کرنی پسند کرتا ہوں۔ کیونکہ میرے پاس ایسے طلبہ پڑھتے رہے ہیں وہ اِسی طرح سمجھانے سے سمجھتے تھے۔ آپ حضرات کی طبائع سے بھی واقف ہوں اور مَبْلَغ ِعلم سے بھی کیونکہ وہ طلبہ جب اپنے علماء سے حوالے معلوم کرنے میں ناکام رہتے تھے تو حوالے پوچھتے تھے۔ اِس لیے کہ مجھے ''فربہ قسم'' کی کتابوں کے دیکھنے کی عادت پہلے سے ہے۔ مجھے نہیں معلوم آپ کے کون سے دوست کس شعبان میں میرے پاس رہے ہیں؟ شعبان میں تو بخاری شریف ختم ہوچکی تھی۔ اُنہوں نے کیا سنا جو معترف ہوئے یا مستہزی بنے۔ باقی رہا ٧٨٦ یا ٧٨٧ کے بارے میں تو میں نے بسم اللہ لکھنے کو کب منع کیا ہے۔ ہمارے لیٹرپیڈ پر وہ چھپی ہوئی ہے۔ رہے آپ کے نکات تو وہ پھر دیکھے جائیں گے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے شاید آپ کے نفس پر شاق گزرے لیکن اگر آپ نے غور کیا اور اپنی اِصلاح کی طرف مائل ہوئے تو اُمید ہے کہ آپ ہمیشہ دُعاء دیں گے۔ یہ سب میں نے اِس لیے لکھا ہے کہ اَلْمُؤْمِنُ مِرْاٰةُ الْمُؤْمِنِ صحیح راہ اعتدال ہی کی ہے وہ اختیار کریں غلو سے بچیں۔ آپ نے میرے خط کی طوالت کا تذکرہ کیا ہے۔ آپ نے بھی تو سوالات جمع کردیے تھے۔ ایک سوال سے زیادہ ایک خط میں نہ ہونا چاہیے لیکن یہ اُس وقت ہے کہ جب آپ کو میری تحریر سے کوئی فائدہ ہو رہا ہو ورنہ بحث برائے بحث عبث ہے نہ اپنا وقت ضائع کریں نہ میرا۔ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۔ ڈاکٹر اِسرار صاحب اور پروفیسر صاحب سے سلام فرمادیں۔ وہ میرے دوست ہیں اُن سے ملاقات کے لیے مجھے سفر کی ضرورت نہیں۔ آپ جب لاہور آئیں تو ضرور تشریف لائیں۔ والسلام حامد میاں ٤ اکتوبر ١٩٧٦ء