ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
تو اگر صرف اُتنی ہی عبارت دی ہے تو بڑی کم فہمی کا ثبوت دیا ہے اور اگر آپ نے اُتنی ہی لکھی ہے تو آپ کی عادت تو معلوم ہوہی گئی ہے کہ کبھی پوری بات نہیں نقل کرتے قطع و برید کرجاتے ہیں اور اصل ماخذ کی طرف تو رجوع جانتے ہی نہیں۔ مکتوبات اُٹھاکر دیکھئے ص ١٨١ پر نمبر ٤ میں کیا ہے پھر نمبر ٥ کا بھی مطالعہ کرلیجئے اور چپ ہوکر بیٹھ جائیے کیونکہ اُس میں تو سید احمد شہید رحمة اللہ علیہ نے بھی آپ کے نقطۂ نظر سے ہٹ کر توجیہہ کی ہے بلکہ نقطۂ نظر سے تو شرکیہ باتیں لکھی دی ہیں اور مولانا اسماعیل شہید اِس کے ناقل ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ' کو آپ کی پرواز عقل سے بہت آگے بڑھادیا ہے۔ اگر آپ وہ دیکھ لیں گے تو آپ کو کوئی نیا محاذ اِن بزرگوں کے خلاف بھی کھولنا پڑجائے گا۔ آپ نے خط میں جو عبارت لکھی ہے اُس میں علامہ عصر کے آگے (انور شاہ) لکھ دیا جس نے بھی یہ تصرف کیا ہے غلط ہے۔ محشی کی مراد علامہ عصر سے حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ ہی ہیں حضرت مولانا انور شاہ رحمة اللہ علیہ نہیں۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ حاشیہ نجم الدین صاحب اصلاحی کا ہے لیکن آپ دھوکہ دے کر حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ' کی تحریر کا سا وزن دینا چاہتے ہیں۔ چونکہ مرتب کی بات آپ کے مطلب کی تھی آپ نے وہی لکھ دی اور مرتب کے شیخ ِمحترم کی بات غائب کردی۔ میں نے حدیث کو حسن کا درجہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ میں اِسے موضوع نہیں مانتا۔ میری اِس بات سے مکتوبات کی تحریر کا کیا تعارض ہے اور جو دلائل اور حوالے آپ کو لکھ چکا ہوں اُن کی روشنی میں اِصلاحی صاحب کی بات بے وزن ہوکر رہ جاتی ہے۔ میں حافظ ابن ِ حجر کی بات نقل کررہا ہوں اور آپ اِصلاحی صاحب کی۔ آپ لکھتے ہیں '' اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیّ بَابُھَا'' کو صحیح حدیث کہنے پر کیوں تُلے ہوئے ہیں؟ آپ کا یہ جملہ بھی مغالطہ آمیز ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے ہیر پھیر میں آکر حدیث کو صحیح کہہ دوں اور آپ کی عبارت کے مغالطوںمیں پھنس جائوں۔ پھر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : ''یہ حدیث نہ باطل ہے نہ صحت کے درجہ کو پہنچتی ہے گویا آپ کے یہ لفظ بھی ذو معنٰی ہیں کہ جھوٹ بھی نہیں اور سچ بھی نہیں۔'' سبحان اللہ! یہاں آپ حَسَنْ کے درجہ کو غائب کرکے مذاق میں لگ گئے۔ کیا حدیث باطل اور صحیح نہ