ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
تواتر کی قوت اَدِلہ ٔمذہب میں سب سے زیادہ ہے۔ اِس کا ایسی اخبار اَحاد سے جو محتمل التاویل ہوں اور جن کا جواب پہلے ہی کتابوں میں لکھا جاچکا ہو تقابل نہایت بڑی غلطی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفۂ رابع نہ ماننا صرف آپ کا اجتہاد ہے جو بے حقیقت اور بے اصل دعوی ہے جیسے حضرت علی کرم اللہ وجہہ' کو خلفاء ثلاثہ پر مقدم کرنا غلط ہے ویسے ہی اِن کو خلیفۂ رابع نہ ماننا بھی غلط ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی باک نہیں کہ کسی صحابی کے متعلق علیہ السلام یا کرم اللّٰہ وجہہ رفض کی ابتداء ہی نہیں بلکہ صریحًا رفض ہے۔ مگر یہ آپ کا بے سمجھے بوجھے دعوی ہی دعوی ہے دلیل نہیں اور دعوے سے دلیل کا کام نہیں لیا جاسکتا۔ ابویزید صاحب سے میرا تعارف نہیں اور بحمد اللہ میں نسلی تعصب کا شکار نہیں۔ البتہ بے دلیل بات نہیں مانتا کہ آپ فرمادیں اور میں مان لوں اور جب میں دلیل دُوں تو وہ آپ سُنی اَن سُنی کرکے پھر اپنا دعوی دہرادیں اور دہراکر اُمید رکھیں کہ اَب کی بار مان لوں گا، یہ نہیں ہوگا۔ دعوے سے آپ دلیل کا کام نہ لیں اور انشاء اللہ دلیل آپ لاہی نہیں سکتے اِس لیے میرے نزدیک ابویزید صاحب کا جملہ بے معنٰی ہے جیسے آپ کا یہ جملہ بے دلیل بے معنی اور لغو ہے کہ علماء دیوبند کی باتوں میں بقول مؤلف زلزلہ تعارض ہے کیونکہ یہ صرف بات ہے اور دلیل کوئی نہیں نہ علماء دیوبند آپ کی یا مؤلف زلزلہ کی طرح علم سے تہی دامن ہیں نہ سمجھ سے نہ رُوحانیت سے اور نہ وہ تجاوز و تعدی کا شکار اور جذبات سے مغلوب۔ البتہ آپ حضرات کتربیونت او ر تحریف کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ اِس کے بغیر اپنا جتھا قائم نہیں رکھ سکتے۔ کتربیونت کرکے تعارض ثابت کرنا چاہتے ہیں اور سیدھے سادے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ کبھی حوالہ مکمل نہیں بیان کرتے اور جواب دیا جائے تو وہ حوالہ پورا نہیں پڑھتے اور کلام کے جو معنی ہوں وہ موڑ توڑ کے بیان کرتے ہیں۔ مولانا داو'د غزنوی رحمة اللہ علیہ نے اِس حدیث کے بارے میں علماء کی رائے بھی نقل کردی اور وہ توجیہہ بھی جو میں آپ کو پہلے لکھ چکا ہوں اُسے آپ ہی دیکھیے مجھے کیا دکھاتے ہیں۔ نیز مجھے آپ کی نقل اور حوالوں پر اعتماد نہیں آپ آدھی بات لکھنے کے عادی ہیں اور یہ کتاب میرے پاس نہیں۔ میرے پاس میثاق کا پرچہ پابندی سے نہیں آتا نہ میں اُس کا خریدار ہوں۔ باقی جن صاحب نے حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ' وقدس سرہ' کے مکتوبات کے حوالہ سے وہ عبارت دی ہے جو آپ نے نقل کی ہے