ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
ہوتا ہے مگر جناب رسول اللہ ۖ نے اسباب سے کنارہ کشی فرمائی اور تقدیر اور وعدہ ہائے الہٰیہ پر اعتماد کرکے گوشہ نشینی اورچلہ کشی اختیار کی ؟نہیں! نہیں!آپ ۖ باوجود بڑھاپے اورسنگلاخ زمین اور پر خار ریگستان اور گرم ملک ہونے کے کبھی بدر کے میدان میں ہیں کبھی اُحد میں کبھی مدینہ کے گرد خندق کھود رہے ہیں تو کبھی مکہ پر چڑھائی کررہے ہیں ،کبھی حنین میں ہیں تو کبھی خیبر میں ۔ ٭ بیوقوفوں نے مسئلہ تقدیر کو اپنی راحت وآرام کا وسیلہ بنالیا اور مخالفین ِاسلام کو حرف گیری کا موقع دیا ۔قرن ِاوّل کے مسلمانوں کی جدوجہد ہر قسم کے اُمور میں اِس قسم کی غلطیوں کو اُکھاڑپھینکنے والی ہے۔ ٭ عالم اسباب میں اسباب پر مسبّبات متفرع ہوتے ہیں مگر تقدیرِ الہٰی میں یہ سب متعین اور مقرر ہے کہ فلاں سبب سے فلاں چیز واقع ہوگی اور ویسا ہی ہوتا ہے، جو شخص عملی زندگی نہ اختیار کرے گا اُس پر حسب ِشرع مواخذہ ہو گا اور لوگوں میں بھی ملامت کا مستحق ہو گا ۔ ٭ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِی لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ اِستغفار کے بہت سے صیغے قرآن اور جناب رسول اللہ ۖ اور سلف ِصالحین سے منقول ہیں ،اِس صیغے کو جناب رسول اللہ ۖ نے سید الاستغفار فرمایا ہے۔ ٭ قرآن مجید ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے جس کے برابر کوئی نعمت نہیں ۔اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت اِس عالم ِظاہری میں اِس طرح لکھی ہوئی موجود نہیں ہے ،اللہ تعالی نے اپنی صفت کلام قدیم کو ان الفاظ اور عبارات کے لباس میں ظاہر فرمایا ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کو دُنیاوی تنگی میں مبتلا کیا جاتا ہے۔یہ خوشی کی بات ہے دل تنگی او ر رنج کی بات نہیں ،جناب رسول اللہ ۖ اِرشا د فرماتے ہیں اَشَدُّ النَّاسِ بَلَآئً اَلْاَنْبِیَآئُ ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر آتی ہیں پھر درجہ بدرجہ اُن کے تابعداروں اور ہم مثلوں پر آتی ہیں ۔ ٭ سب سے بڑا مرتبہ کفر میں '' کفرِ جحو د'' کاہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کی صفات ِکاملہ متواترہ کا اِنکار کرنا ،رسالت کا اِنکار کرنا وغیرہ اور دِل و زبان سے اِن کو نہ ماننا ،اِسی طرح شرک میں سب سے بڑا درجہ ''شرکِ صریح ''ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اُس کی ذات ،صفات ،افعال،