ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2002 |
اكستان |
|
اسی قسم کے اختلاف ہیں جن سے گھر گھر لڑائی جھگڑے اور سر پھٹول کی نوبت آ رہی ہے اور اس طرح ہم دشمنان ِدین کے لیے جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں ، اعاذ ناا للہ منہ۔ بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہاہے کہ موجودہ دور میں غیر مقلدین حضرات کا طرز عمل کچھ اس قسم کا ہوتا جا رہا ہے جس سے نفسانی اختلاف اور تعصب کو جلا مل رہی ہے ،ان حضرات کا ہر چھوٹا بڑا اُس عمل کو کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے جو اختلاف کا موجب ہو۔ یہ حضرات اتفاقی امور کو انجام دینے کے بجائے اختلافی امور کو معمو ل بناتے اور اس کی دعوت و اشاعت میں کوشاں رہتے ہیں ۔چنانچہ تہجد ،چاشت ،اشراق ،اوابین وغیرہ نوافل کو چھوڑکر مغرب کی اذان کے بعد نفل پڑھنا،جمعہ سے پہلے اور بعد کی سنتوں کو چھوڑ کر جمعہ کے خطبہ کے دوران نفل پڑھنا ،اسی طرح دس ذی الحجہ کے افضل دن قربانی کو چھوڑ کر چوتھے دن قربانی کرنا ،چمڑہ کے موزوں کو چھوڑ کر عام نائلون اور سوتی جرابوں پر مسح کرنا ،نماز کی مسلمہ سنتوں کو چھوڑکر رفع یدین اور آمین بالجہر میں لگنا یہ اس کی ادنیٰ مثالیں ہیں۔ غیر مقلدین کے ایک مقتدر عالم جنہیں غیرمقلدین شیخ الاسلام کہتے ہیںان کی ایک تحریر ملاحظہ فرمائیے اس سے آپ کو اس حقیقت کا کچھ مزید اندازہ ہو گا ۔مولاناثناء اللہ امرتسری مرحوم لکھتے ہیں ۔ ''مسلمانوں کی خوش قسمتی سے خطبہ کے متعلق بھی اختلاف پیدا ہو چکا ہے کہ اس میں دیسی زبان میں وعظ کہنا جائز ہے یا نہیں ۔'' ١ غور فرمائیے ساڑھے تیرہ سو برس سے جو عمل غیر متنازع طورپر چلا آ رہا ہے اس کے بارہ میںاختلاف پیدا ہو جانے کو غیر مقلدین کے شیخ الاسلام مسلمانوں کی خوش قسمتی قرار دے رہے ہیں ان کنت لاتدری فتلک مصیبة وان کنت تدری فالمصیبة اعظم اندازہ لگائیے جن کے بڑوں کا یہ حال ہو اُن کے چھوٹوں کا کیا حال ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین کا ہر فرد بیک قلم سب کوگمراہ قرار دے کر اپنی حقانیت کی صدا لگا رہا ہے اور ان حضرات کی یہ جارحیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس سے صحابۂ کرام ،ائمہ عظام ، صوفیا ء و اہلُ اللہ کے دامن بھی محفوظ نہیں رہے ،حال ہی میں حرمین شریفین کی دو یو نیورسٹیوں سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے دو غالی غیر مقلدین نے جو مقالے لکھ کر ڈگری حاصل کی ہے ان مقالوں کو پڑھ کر دیکھئے کہ ان مقالوں میں نئے محققین نے کیا گل کھلائے ہیں۔ ان محققین پر اس دور پر فتن میںیہ عقدہ کھلا ہے کہ اکابر اولیا ء اللہ اور اُمت مسلمہ کے مُسَلَّمَہ بزرگ شیخ محی الدین ابن عربی ،شیخ عبدالقادر جیلانی ،مولانا روم ،حضرت شاہ ولی اللہ اور اکابر علماء دیوبندیہ سب کے سب قبر پرست ،بدعتی،مشرک اورگمراہ تھے ،العیاذ باللہ ١ فتاوی ثنائیہ ج١ ص ٦٢٢