بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا﴾اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو،یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے، وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دےگا اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا اور تمہاری خاطر نہریں مہیّا کرے گا۔(آسان ترجمہ قرآن)
کسی شخص نے حضرت حسن بصریسے خشک سالی کی شکایت کی ، آپ نے اُسےکہا : اِستغفار کرو،کسی دوسرے شخص نے اپنے فقر و فاقہ کا تذکرہ کیا ،آپ نے اُسے بھی یہی کہا:اِستغفار کرو،ایک اور شخص نےاپنے لئے اولاد کی دعاء کی درخواست کی ،آپ نے اُسے بھی یہی تلقین کی کہ اِستغفار کرو، کسی نےاپنے باغ کے سوکھ جانے کی شکایت کی ،آپ نے اُسے بھی یہی کہا : اِستغفار کرو۔ہم نے اُن سے تمام پریشانیوں کے جواب میں ایک ہی علاج بتلانے کی وجہ دریافت کی تو حضرت حسن بصرینےفرمایا :میں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہہ رہا بلکہ اِس کو تو خود اللہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایاہے:﴿اِسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً يُرْسِلِ السَّماءَ عَلَيْكُمْ مِدْراراً﴾۔(تفسیر قرطبی:18/302)
مذکورہ بالا نصوص سے معلوم ہوا کہ سردی کی شدّت ہو یا کوئی اور پریشان کُن صورتحال ،تمام مسائل کا حل اِسی میں ہے کہ بندہ توبہ و اِستغفار کی کثرت کرے، اِن شاء اللہ اِس کی برکت سے ہر مشکل آسان اور ہر پریشانی دور ہوجائے گی ۔