حل ہوجائیں گے ،رکاوٹیں دور ہوجائیں گی اور ماحاحول و معاشرے میں ہر طرح کی ظاہری و باطنی خوشحالی آجائے گی۔اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾اور اے مؤمنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کروتاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔(آسان ترجمہ قرآن)
حدیث میں آتا ہے ،حضرت عبد اللہ بن عباسنبی کریمﷺکا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں :”مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيْقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ“جو استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ نکال دیتا ہے ۔ اور اسے ہر رنج وغم سے نجات دیتا ہے نیز اس کو ایسی جگہ سے رزق عطاء کرتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔(ابوداؤد:1518)
جب بندے استغفار میں لگے ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کو روک لیتے ہیں ، چنانچہ اِرشادِ باری ہے: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾اور (اے پیغمبر!)اللہ ایسا نہیں ہے کہ اِن کو عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو اور اللہ اِس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں۔(آسان ترجمہ قرآن)
ایک اور جگہ اِستغفار کے کئی فوائد ذکر کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا:﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَ يُمْدِدْكُمْ