نے اپنی قمیص اتار کراُس شخص کو پہنادی، اسی رات بلاد شام میں کسی شخص نے خواب دیکھا کہ حضرت صفوان بن سُلیم صرف اُس قمیص کےصدقہ کرنے کی وجہ سےجنت میں داخل ہوئے، وہ شخص اسی وقت مدینہ منوّرہ کے لئے روانہ ہوا اور مدینہ منورہ آکر حضرت صفوان بن سُلیم کا پتہ پوچھا اور اپنا خواب بیان کیا۔(صفۃ الصفوۃ:1/385)
حضرت عبد اللہ بن عباسنبی کریمﷺکایہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں:”إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَفْرَحُ بِذِهَابِ الشِّتَاءِ رَحْمَةً لِمَا يَدْخُلُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الشِّدَّةِ“بیشک فرشتے فقراء مؤمنین پر(سردی کی)شدّت کی وجہ سےسردی کے جانے سے خوش ہوتے ہیں۔(طبرانی کبیر:11171)
(8)آٹھواں ادب:دوسروں کو تکلیف دینے سے گریز کرنا:
شریعت کا یہ بہت ہی حکم ہےکہ کسی بھی ایسے کام سے حتی الامکان ضرور بچنا چاہیئے جو کسی کی تکلیف اور پریشانی کا باعث ہو،نبی کریمﷺنے اِس کو ایمانِ کامل کا معیار قرار دیا ہے،چنانچہ حدیث میں ہے:”المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ“کامل درجہ کا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری:10)
سردی کے موسم میں بھی اِس اصول اور ضابطہ کا بطورِ خاص لحاظ رکھنا چاہیئے اور کسی بھی ایسے کام سےبچنا چاہیئے جس سے دوسروں کو تکلیف اور پریشانی کا سامنا ہو مثلاً: