حجاج کرام کا ماءِ زمزم لے کر آنا آپﷺ سے اورصحابہ کرام سے ثابت ہے ۔عَنْ عَائِشَةَ:أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مَاءَ زَمْزَمَ فِي الْقَوَارِيرِ.(شعب الایمان : 3834)عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْمِلُهُ.(ترمذی: 963)عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً أَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ؟ فَقَالَ:قَدْ حَمَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمَلَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.(طبرانی کبیر: 2566)
ماءِ زمزم کسی کو دینے کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے ۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُتْحِفَ الرَّجُلَ بِتُحْفَةٍ سَقَاهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ.(حِلیۃ الاولیاء :3/304)
زمزم کا پانی بیٹھ کر پینا مستحب ہے یا کھڑے ہوکر :
اِس بارے میں علماء کی دو نوں طرح کی رائیں ہیں :
(1)کھڑے ہوکر مستحب ہے :اِس لئے کہ نبی کریم ﷺ سے کھڑے ہوکر زمزم پینا ثابت ہے ۔
(2)بیٹھ کر مستحب ہے :اِس لئے کہ آپﷺ کا کھڑے ہوکر پینا کسی ضرورت کی وجہ سے تھا ۔
٭کھڑے ہوکر پینے کا جواز بیان کرنے کے لئے ۔
٭وہاں بیٹھنے کی مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ۔
٭تاکہ سب دیکھ لیں اور سب کو معلوم ہوجائے کہ یہ بھی سنن حج میں سے ہے ۔
٭اِس لئے کہ یہ پانی سراسر شفاء ہے ، اِسے کھڑے ہوکر پینے میں کوئی نقصان کا اندیشہ نہیں ۔
٭تاکہ بحالتِ قیام یہ بابرکت پانی پورے بدن میں اچھی طرح پہنچ جائے ۔(انتہاب المنن :1/212)
ماءِ زمزم پینے کی دعاء:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ.(دار قطنی: 2738)