Deobandi Books

طلبہ و مدرسین سے خصوصی خطاب

ہم نوٹ :

25 - 34
جب دل چاہے تو بیعت کی سنتِ غیر مؤکدہ بھی ادا کرلو۔ آج کل لوگوں میں اس بات کا اتنا ڈر سمایا ہوا ہے کہ اگر میں نے پیر صاحب سے دو چار مرتبہ مشورہ لے لیا تو پیر صاحب ہمیں خودبخود مرید بنانے والی مشین میں ڈال دیں گے۔ تو ایسے جاہل پیر سے مشورہ ہی کیوں لیتے ہو؟ جب آپ کسی ڈاکٹر سے علاج کرواتے ہیں تو کیا اُس کو یہ کہتے ہیں کہ پہلے مرید کرو پھر دوا دو؟ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بیعت ہونا اگرچہ فرض نہیں ہے لیکن برکت کی چیز ہے کیوں کہ شیخ اُس کو اپنا خاص سمجھتا ہے اور وہ بھی اُسے اپنا بابا سمجھتا ہے، پھر یہ تعلق قوی ہوجاتا ہے لیکن محض برکت پر اتنا زیادہ زور مت دو کہ بالکل حرکت ہی نہ ہو۔
دنیا  کا مزہ بھی اللہ کی محبت پر موقوف ہے
تو علم کو عمل کی نیت سے پڑھو اور اخلاص سے پڑھو اور سب سے بڑی چیز اللہ تعالیٰ کی محبت سیکھو۔ میں اپنے شیخ کی بات بتاتا ہوں، حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ جب بھی اللہ کا نام لیتے تھے تو آنکھ میں آنسو آجاتے تھے، اُن کو اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت تھی۔ واقعی ان عاشقوں کودیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ دین کتنا میٹھا ہے۔ آج آدمی دین کو مصیبت سمجھتا ہے، میں تو کہتا ہوں کہ اگر آدمی دنیا میں اللہ والا نہیں بنا تو دنیا میں آنے کا مزہ ہی نہیں پایا،یہ کیا کہ کھایا ہگا اور چل دیا یعنی اپنے پیٹ کو امپورٹ ایکسپورٹ کا آفس بناکر ایک دن اس دنیا سے چل دیا۔
دنیا کی فانی نعمتوں کی مثال
مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک کیڑا انگور کے درخت پر چڑھا اور ہرے پتے پر ہی چپک کر زندگی گزار کر مر گیا، اُس نے انگور چکھا تک نہیں، وہ سمجھا کہ شاید یہی انگور ہے۔ اسی طرح ہم لوگ دنیا کی نعمتوں میں پھنس کر نعمت دینے والے کی معرفت کے انگور کی لذت سے محروم رہتے ہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیاداروں کا بھی یہی حال ہے کہ کھارہے ہیں، پی رہے ہیں، سو رہے ہیں، جاگ رہے ہیں لیکن کاش!یہ لوگ آگے بڑھیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت و معرفت کے انگور کھائیں تو ہرا پتا بھول جائیں گے۔ اگر وہ کیڑا انگور پالیتا اور اُس کو چوس لیتا تو کہتا کہ ہائے! میں نے ہرے پتے پر زندگی ضایع کردی۔ ہم لوگ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بے ادبی اور بد تمیزی کی سزا کا ایک اہم اُصول 6 1
3 کسی کے جاہل یا بد دین ہونے کی شرعی دلیل 7 1
4 ادب و اکرام کی اہمیت 7 1
5 طلبہ کی کثرتِ تعداد مطلوب نہیں 8 1
6 علم کی برکت اور کثرت کا فرق 9 1
7 حدیثِ اسبالِ ازار میں خُیَلَاءً کی قید قیدِ احترازی نہیں، قیدِ واقعی ہے 10 1
8 پائجامہ ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی وجہ کبر ہے 10 1
9 علم کا مطلوب علمِ نافع حاصل کرنا ہے 11 1
10 علم کی برکت کے حاصل کرنے کا طریقہ 12 1
11 حدیث مَا بُدِیَٔ بِشَیْءٍ الٰخ کی علمی تحقیق 12 1
12 تحصیلِ علم میں سب سے اہم چیز اصلاحِ نیت ہے 13 1
13 حفاظ کو تراویح پر اُجرت نہ لینے کی درد مندانہ تلقین 14 1
14 بعثتِ نبوی کے تین مقاصد 15 1
15 محبتِ للّٰہی کی بنیاد زبان و رنگ پر نہیں ہے 16 1
16 بعثتِ نبوی کے تین مقاصد: تلاوتِ قرآن،تعلیمِ کتاب اور تزکیہ 17 1
17 توکل علی اللہ کا ایک واقعہ 19 1
18 حضرت مولانا شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے استغنا کا ایک واقعہ 20 1
19 اخلاصِ نیت کی تلقین 21 1
20 قرآنِ پاک میں علماء کے بلند مقام کا تذکرہ 23 1
21 اصلاحِ نفس کی اہمیت 24 1
22 دنیا کا مزہ بھی اللہ کی محبت پر موقوف ہے 25 1
23 دنیا کی فانی نعمتوں کی مثال 25 1
24 گناہ اورتحصیلِ علم جمع نہیں ہو سکتے 26 1
25 ہڑتال اور اسٹرائک غیر شرعی عمل ہے 26 1
26 ادب کے ثمرات 26 1
27 طلبہ کو سر پر بال نہ رکھنے کی تلقین 29 1
28 طلبہ کو بُری صحبت سے بچنے کی نصیحت 30 1
29 ایک اہلِ دل کی ایک مدرسہ کے مہتمم سے درد مندانہ گزارش 32 1
Flag Counter