طلبہ و مدرسین سے خصوصی خطاب |
ہم نوٹ : |
|
جب دل چاہے تو بیعت کی سنتِ غیر مؤکدہ بھی ادا کرلو۔ آج کل لوگوں میں اس بات کا اتنا ڈر سمایا ہوا ہے کہ اگر میں نے پیر صاحب سے دو چار مرتبہ مشورہ لے لیا تو پیر صاحب ہمیں خودبخود مرید بنانے والی مشین میں ڈال دیں گے۔ تو ایسے جاہل پیر سے مشورہ ہی کیوں لیتے ہو؟ جب آپ کسی ڈاکٹر سے علاج کرواتے ہیں تو کیا اُس کو یہ کہتے ہیں کہ پہلے مرید کرو پھر دوا دو؟ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بیعت ہونا اگرچہ فرض نہیں ہے لیکن برکت کی چیز ہے کیوں کہ شیخ اُس کو اپنا خاص سمجھتا ہے اور وہ بھی اُسے اپنا بابا سمجھتا ہے، پھر یہ تعلق قوی ہوجاتا ہے لیکن محض برکت پر اتنا زیادہ زور مت دو کہ بالکل حرکت ہی نہ ہو۔ دنیا کا مزہ بھی اللہ کی محبت پر موقوف ہے تو علم کو عمل کی نیت سے پڑھو اور اخلاص سے پڑھو اور سب سے بڑی چیز اللہ تعالیٰ کی محبت سیکھو۔ میں اپنے شیخ کی بات بتاتا ہوں، حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ جب بھی اللہ کا نام لیتے تھے تو آنکھ میں آنسو آجاتے تھے، اُن کو اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت تھی۔ واقعی ان عاشقوں کودیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ دین کتنا میٹھا ہے۔ آج آدمی دین کو مصیبت سمجھتا ہے، میں تو کہتا ہوں کہ اگر آدمی دنیا میں اللہ والا نہیں بنا تو دنیا میں آنے کا مزہ ہی نہیں پایا،یہ کیا کہ کھایا ہگا اور چل دیا یعنی اپنے پیٹ کو امپورٹ ایکسپورٹ کا آفس بناکر ایک دن اس دنیا سے چل دیا۔ دنیا کی فانی نعمتوں کی مثال مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک کیڑا انگور کے درخت پر چڑھا اور ہرے پتے پر ہی چپک کر زندگی گزار کر مر گیا، اُس نے انگور چکھا تک نہیں، وہ سمجھا کہ شاید یہی انگور ہے۔ اسی طرح ہم لوگ دنیا کی نعمتوں میں پھنس کر نعمت دینے والے کی معرفت کے انگور کی لذت سے محروم رہتے ہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیاداروں کا بھی یہی حال ہے کہ کھارہے ہیں، پی رہے ہیں، سو رہے ہیں، جاگ رہے ہیں لیکن کاش!یہ لوگ آگے بڑھیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت و معرفت کے انگور کھائیں تو ہرا پتا بھول جائیں گے۔ اگر وہ کیڑا انگور پالیتا اور اُس کو چوس لیتا تو کہتا کہ ہائے! میں نے ہرے پتے پر زندگی ضایع کردی۔ ہم لوگ