Deobandi Books

طلبہ و مدرسین سے خصوصی خطاب

ہم نوٹ :

14 - 34
رحمۃ اللہ علیہ کے والد مولانا یحییٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور میرے شیخ کے استاد مولانا ماجد علی جونپوری رحمۃ اللہ علیہ یہ دونوں حضرات مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث پڑھتے تھے اور میرے شیخ مجھ کو بخاری شریف پڑھایا کرتے تھے۔ یہ حدیث:
  اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِاور اس کی شرح میرے شیخ نے مجھ سے یہ فرمائی تھی کہ نِیَّاتٌ،نِیَّۃٌ  کی جمع ہے اورنِیَّۃٌ نَوَاۃٌ سے ہے، نَوَاۃٌ کے معنیٰ گٹھلی کے ہیں، اگر آم کی گٹھلی ڈالو گے تو آم پیدا ہوگا اور اگر نیم کی گٹھلی زمین میں ڈالو گے تونیم ہی پیدا ہوگا، آم پیدا نہیں ہوگا۔ اگر اچھی نیت ہے اور صرف اللہ کے لیے پڑھ رہے ہو تو پھر اللہ ملے گا، اور اگر یہ نیت ہے کہ مولوی اور حافظ بن کر پیٹ کمانا ہے تو پھر علمِ دین پڑھنے کی کیا ضرورت ہے، پھر آلو بیچو، بکرا خریدو اور قصائی بن جاؤ اور گوشت بیچو، پھر علمِ دین کی کیا ضرورت ہے؟ کیا پیٹ کمانے کا علم ہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے!
ایک حافظ نے ایک مال دار سے کہا کہ ہم تمہاری اماں کی قبر پر چالیس دن تک   قرآنِ مجید پڑھیں گے اور تمہیں تمہاری والدہ کی بخشش کی بشارت مل جائے گی مگر اتنے لاکھ چندہ دینا پڑے گا۔ اس کے بعد اُن کو خواب بھی نظر آگیا اور انہوں نے مال دار کو بشارت بھی سنادی اور اس سے کئی لاکھ روپے لے لیے۔ بتاؤ! یہ کیا ہے؟ یہ فرضی خواب روپے نے دِکھایا ہے۔
حفاظ کو تراویح پر اُجرت نہ لینے کی درد مندانہ تلقین
دیکھو!یہاں پر جو لوگ حافظ ہورہے ہیں مجھ سے یہاں اللہ کے گھر میں عہد کرو کہ قرآن سناکر یا تراویح پڑھاکر کبھی پیسہ نہیں لیں گے، اگر یہ سب کچھ کرکے پیسے ہی کمانے ہیں تو میرا مدرسہ چھوڑ دو، ہم ایسے مدرسے میں تالا لگادیں گے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ یہاں سے ایسے لوگ نکلیں جو قرآن کو بیچتے پھریں، ایسا کرنا ہر صورت میں حرام ہے چاہے معاوضہ  طے ہو یا طے نہ ہو۔
فقہ کی مستند کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ تراویح میں قرآن پڑھانے کا معاوضہ طے کرتے ہو تو دو گناہ ہیں، معاوضہ طے کرنے کا گناہ الگ اور حرام مال لینے کا گناہ الگ۔ اسی طرح سامع کے لیے بھی اُجرت لینے کی اجازت نہیں ہے۔ آج کل لوگ کہتے ہیں کہ سامع کے
_____________________________________________
6؎    صحیح البخاری: 2/1(1) باب کیف کان بدء الوحی،المکتبۃ المظہریۃ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بے ادبی اور بد تمیزی کی سزا کا ایک اہم اُصول 6 1
3 کسی کے جاہل یا بد دین ہونے کی شرعی دلیل 7 1
4 ادب و اکرام کی اہمیت 7 1
5 طلبہ کی کثرتِ تعداد مطلوب نہیں 8 1
6 علم کی برکت اور کثرت کا فرق 9 1
7 حدیثِ اسبالِ ازار میں خُیَلَاءً کی قید قیدِ احترازی نہیں، قیدِ واقعی ہے 10 1
8 پائجامہ ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی وجہ کبر ہے 10 1
9 علم کا مطلوب علمِ نافع حاصل کرنا ہے 11 1
10 علم کی برکت کے حاصل کرنے کا طریقہ 12 1
11 حدیث مَا بُدِیَٔ بِشَیْءٍ الٰخ کی علمی تحقیق 12 1
12 تحصیلِ علم میں سب سے اہم چیز اصلاحِ نیت ہے 13 1
13 حفاظ کو تراویح پر اُجرت نہ لینے کی درد مندانہ تلقین 14 1
14 بعثتِ نبوی کے تین مقاصد 15 1
15 محبتِ للّٰہی کی بنیاد زبان و رنگ پر نہیں ہے 16 1
16 بعثتِ نبوی کے تین مقاصد: تلاوتِ قرآن،تعلیمِ کتاب اور تزکیہ 17 1
17 توکل علی اللہ کا ایک واقعہ 19 1
18 حضرت مولانا شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے استغنا کا ایک واقعہ 20 1
19 اخلاصِ نیت کی تلقین 21 1
20 قرآنِ پاک میں علماء کے بلند مقام کا تذکرہ 23 1
21 اصلاحِ نفس کی اہمیت 24 1
22 دنیا کا مزہ بھی اللہ کی محبت پر موقوف ہے 25 1
23 دنیا کی فانی نعمتوں کی مثال 25 1
24 گناہ اورتحصیلِ علم جمع نہیں ہو سکتے 26 1
25 ہڑتال اور اسٹرائک غیر شرعی عمل ہے 26 1
26 ادب کے ثمرات 26 1
27 طلبہ کو سر پر بال نہ رکھنے کی تلقین 29 1
28 طلبہ کو بُری صحبت سے بچنے کی نصیحت 30 1
29 ایک اہلِ دل کی ایک مدرسہ کے مہتمم سے درد مندانہ گزارش 32 1
Flag Counter