طلبہ و مدرسین سے خصوصی خطاب |
ہم نوٹ : |
|
رحمۃ اللہ علیہ کے والد مولانا یحییٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور میرے شیخ کے استاد مولانا ماجد علی جونپوری رحمۃ اللہ علیہ یہ دونوں حضرات مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث پڑھتے تھے اور میرے شیخ مجھ کو بخاری شریف پڑھایا کرتے تھے۔ یہ حدیث: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ 6؎اور اس کی شرح میرے شیخ نے مجھ سے یہ فرمائی تھی کہ نِیَّاتٌ،نِیَّۃٌ کی جمع ہے اور نِیَّۃٌ نَوَاۃٌ سے ہے، نَوَاۃٌ کے معنیٰ گٹھلی کے ہیں، اگر آم کی گٹھلی ڈالو گے تو آم پیدا ہوگا اور اگر نیم کی گٹھلی زمین میں ڈالو گے تونیم ہی پیدا ہوگا، آم پیدا نہیں ہوگا۔ اگر اچھی نیت ہے اور صرف اللہ کے لیے پڑھ رہے ہو تو پھر اللہ ملے گا، اور اگر یہ نیت ہے کہ مولوی اور حافظ بن کر پیٹ کمانا ہے تو پھر علمِ دین پڑھنے کی کیا ضرورت ہے، پھر آلو بیچو، بکرا خریدو اور قصائی بن جاؤ اور گوشت بیچو، پھر علمِ دین کی کیا ضرورت ہے؟ کیا پیٹ کمانے کا علم ہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے! ایک حافظ نے ایک مال دار سے کہا کہ ہم تمہاری اماں کی قبر پر چالیس دن تک قرآنِ مجید پڑھیں گے اور تمہیں تمہاری والدہ کی بخشش کی بشارت مل جائے گی مگر اتنے لاکھ چندہ دینا پڑے گا۔ اس کے بعد اُن کو خواب بھی نظر آگیا اور انہوں نے مال دار کو بشارت بھی سنادی اور اس سے کئی لاکھ روپے لے لیے۔ بتاؤ! یہ کیا ہے؟ یہ فرضی خواب روپے نے دِکھایا ہے۔ حفاظ کو تراویح پر اُجرت نہ لینے کی درد مندانہ تلقین دیکھو!یہاں پر جو لوگ حافظ ہورہے ہیں مجھ سے یہاں اللہ کے گھر میں عہد کرو کہ قرآن سناکر یا تراویح پڑھاکر کبھی پیسہ نہیں لیں گے، اگر یہ سب کچھ کرکے پیسے ہی کمانے ہیں تو میرا مدرسہ چھوڑ دو، ہم ایسے مدرسے میں تالا لگادیں گے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ یہاں سے ایسے لوگ نکلیں جو قرآن کو بیچتے پھریں، ایسا کرنا ہر صورت میں حرام ہے چاہے معاوضہ طے ہو یا طے نہ ہو۔ فقہ کی مستند کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ تراویح میں قرآن پڑھانے کا معاوضہ طے کرتے ہو تو دو گناہ ہیں، معاوضہ طے کرنے کا گناہ الگ اور حرام مال لینے کا گناہ الگ۔ اسی طرح سامع کے لیے بھی اُجرت لینے کی اجازت نہیں ہے۔ آج کل لوگ کہتے ہیں کہ سامع کے _____________________________________________ 6؎صحیح البخاری: 2/1(1) باب کیف کان بدء الوحی،المکتبۃ المظہریۃ