عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
اگر یہ کہے کہ یہ جواہرات سے ڈھلا گلاس بھی ہماری طرح ایک گلاس ہے تو انتہائی بےوقوفی کی بات ہوگی، سڑی مٹی والا گلاس ذرا اپنے دام بازار میں لگوائے اور پھر اس انمول جواہرات والے گلاس کے دام لگوالے،اس کے تو دو پیسے دام ملیں گے اور اس گلا س کی قیمت سلطانِ وقت بھی نہیں دے سکتا ؎ گر بصورت آدمی انساں بُد ے احمد و بوجہل ہم یکسا بُدے پس عام انسانوں میں اور رسول میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ نبی کا خمیر نورانی ہوتا ہے ، حق تعالیٰ اپنے خاص انوار کو بشریت کے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے اندر معصیت کا تقاضا اور داعیہ تک نہیں ہوتا، معصوم فطرت پر مبعوث ہوتے ہیں اور ولی کے اندر تقاضا گناہ کا ہوتا ہے ،لیکن تقاضائے معصیت پر عمل کرنے سے اس کو محفوظ رکھا جاتاہے ، اگر وہ واقعی ولی ہے۔ انبیاء علیہم السلام اپنی نورانی فطرت اور نورانی خمیر ہی کے سبب نورِ وحئ الٰہی کا تحّمل کرلیتے ہیں،چوں کہ علم الٰہی میں وہ پہلے سے منتخب ہوتے ہیں اس لیے اُن کی آفرینش کے وقت ہی سے اُن کی خصو صی تربیت ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ سرکاری اور درباری لوگ ہیں اُن پر میاں کی نظر دوسری ہوتی ہے۔ پیغمبروں کو جنس بشر سے مبعوث فرمانے کی مولانا رومی رحمۃُاللہ علیہ ایک حکمت بیان فرماتے ہیں ؎ زاں بود جنسِ بشر پیغمبراں تابجنسیت رہند از ناوداں یعنی اس واسطے بشر کی جنس سے پیغمبروں کو بھیجتے ہیں تاکہ جنسیت کے سبب دوسرے انسان ونادان کُفر و شرک سے نکل آئیں، کیوں کہ ہم جنس کی طرف مائل ہونا ایک فطری امر ہے۔ (اِنْتَہٰی) پس آج بھی قرآنِ پاک کا معجزہ موجود ہےاور قیامت تک موجود رہے گا۔ جس وقت قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے پورے عالم انسانیت کو خصوصاً فصحائے عرب کو للکارا جن کو