عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
اپنی زبان دانی پر ناز تھا کہ اس کلام کے مثل ایک محدود ٹکڑا بنا لاؤ اور اپنے حمایتیوں کو بھی جمع کرلو اور قیامت تک تم ایسا نہ کرسکو گے تو فصحائے عرب نے غیظ و غضب میں کیسے پیچ و تاب کھائے اور ایڑی چوٹی کا زور لگالیا لیکن قرآنِ پاک کے مثل ایک ٹکڑا نہ بناسکے اور عاجز ہوکر اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے، کیوں کہ اہل عرب جنہوں نے سینکڑوں باطل خدا بنا رکھے تھے ان کے اس زعم کے مطابق سینکڑوں کیا ایک بھی دوسرا خدا ہوتا تو قرآنِ پاک کے اس اعلان پر کہ اپنے حمایتیوں کو بھی جمع کرلو، ناممکن تھا کہ وہ خاموش رہتا بلکہ اس کلامِ پاک کے مثل اپنا کلام پیش کرنے میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑتا،کیوں کہ قرآنِ پاک کا اعلانِ توحید تمام باطل معبودوں کے لیے اعلانِ جنگ تھا۔ اس کے باوجود قرآن کے مثل ایک آیت بھی نہ لاسکا۔ اللہ جل شانہٗ کی وحدانیت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت کی کھلی دلیل ہے۔ آج تو بیان کرنے کا ارادہ بھی نہیں تھا اور کوئی مضمون بھی ذہن میں نہیں تھا مگر بس اللہ کے بھروسے پر مضمون چل پڑا اور بیان ہوگیا۔ پھر فرمایا کہ میں بیمار آدمی ہوں ، تھک بھی گیا ہوں لہٰذا اب آرام کروں گا۔آخر میں حضرت والا نےدُعا فرمائی کہ اے اللہ!ہم سب لوگوں کو جذب فرمالے اور اپنا بنالے۔ اگر ہم اپنی نالائقی کی وجہ سے آپ کا نہ بھی بننا چاہیں تو ہماری نالائقی کو معاف کردے اور جذب فرماکر ہم سب کو اللہ والا بنادے۔ جتنے آدمی بھی اس مجمع میں ہیں ایک آدمی بھی ایسا نہ ہو جو اللہ والا نہ بنے۔ یااللہ! مجھ سمیت اس مجمع کو سو فیصد اللہ والا بنادے اور میرے جو احباب یہاں نہیں ہیں اُن کے لیے بھی میری اس دُعا کو قبول فرمالے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے بلا استحقاق جذب فرمالے اور اپنی رحمت سے اولیائے صدیقین کی جو آخری سرحد ہے وہاں تک پہنچادے اور تب ایمان پر خاتمہ نصیب فرمادے اور ہمیں ہمارے نفس کے حوالے نہ کرنا اور ہم سب کو لومڑی پن اور ہیجڑے پن سے باز رہنے کی توفیق عطا فرمادے اور ہماری روح کو شیرانیت عطا فرمادے جیسے جب شیر چلتا ہے تو تمام جنگل کانپتا ہے۔ اس طرح ہماری رفتار ایسی ہو کہ نفس کی کُتّی تھرتھرانے لگے۔ اللہ تعالیٰ تُو ہماری دُعا سُن لے۔ سب کو سو فیصد جذب فرمالیجیے اور ولی اللہ بنادیجیے اور جو غیر حاضر ہیں اُن کے حق میں بھی میری دُعا کو قبول فرمالیجیے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ