عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
ہے کہ میں یہ محبوب رکھتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھرقتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ سبحان اللہ! جان پاک رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا عشق تھا کہ اللہ کے راستے میں بار بار شہادت کی تمنا فرمارہے ہیں اور آپ سیدالانبیاء ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام خلائق میں آپ سب سے زیادہ پیارے ہیں ۔ یہ مضمون اتنا ضروری ہے کہ جزوِ ایمان ہے۔ عظمتِ توحید اور عظمتِ رسالت دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔ ہجرت کا حکم عظمتِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل ہے اب دوسری بات یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو تمام صحابہ کو بھی حکم دیا گیا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے وطن، اپنی دوکان اور اپنی تجارت سے نہ چپکا رہے، دوکان چھوڑ دو ، چلی چلائی جمی جمائی دوکان چھوڑ دو اور مدینہ جاؤ۔ اسباب رزق کو چھوڑ دو اور اپنےساتھ رزاق کو لے جاؤ۔ یہاں سے تم خالی ہاتھ جاؤ وہاں اللہ پھر تمہارا ہاتھ بھردے گا کیوں کہ رزاق تمہارے ساتھ ہے۔ کعبہ شریف اللہ کا گھر ہے، بغیر اس کے حج نہیں ہوتا، زم زم کتنا متبرک پانی ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا، ہر سال کتنے حاجی جاتے ہیں، ہر وقت ڈول چلتا رہتا ہے مگر معجزہ ہے کہ زم زم ختم ہی نہیں ہوتا، اور وہیں مولدِ رسول یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدایش کی جگہ ہے اور بہت سے انبیاء علیہم السلام کی قبریں ہیں، کتنے معجزات اس بلدِ امین میں ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو اجازت نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر مکہ شریف میں رہ جائیں۔ کعبہ میرا گھر ہے مگر گھر والے کو وہیں پائیں گے جہاں میرا رسول ہوگا۔ اس لیے سب کے سب صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے گئے۔ اور جب مکہ فتح ہوگیا تب بھی اجازت نہیں دی گئی کہ اب تو ستانے والے سب ختم ہوگئے، اب وہ ماحول نہیں رہا، جغرافیہ بدل گیا تو تاریخ بھی بدل جانی چاہیے مگر اللہ تعالیٰ نے وہی تاریخ رکھی کہ جن صحابہ نے ہجرت کی ہے سب واپس مدینے چلے جائیں اور مستقل رہنے کی نیت سے مکہ نہ آئیں۔ ہمارا رسول بھی مدینے ہی میں رہے گا اور جہاں ہمارا رسول رہے گا