عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
اور حکم ہوگیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا، اور پانی گھٹ گیا اور قصہ ختم ہوا۔ اس آیت کا تعلق واقعۂ طوفانِ حضرت نوح علیہ السلام سے ہے، ابنِ مقفع افصح العرب اس آیت کو سُن کر نادم ہوگیا، اور شرمندگی کے ساتھ اقرار کیا کہ بخدا! قرآن کی فصاحت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایک اَن پڑھ رسول کی زبان سے قرآن کے کلمات کی فصاحت و بلاغت سن کر عرب کے زبان دانوں کی آنکھیں کھل گئیں، کہ اللہ اکبر یہ فصاحت و بلاغت ایک اُمّی کی زبان سے! اور پھر مضامین کیسے کیسے ہیں، یہ ایسے اَن پڑھ رسول ہیں کہ علمائے یہود کو توریت کی باتیں سُناکر یہودیوں کو حیرت میں ڈال رہے ہیں، یہ ایسے اَن پڑھ رسول ہیں کہ انجیل کی باتیں سُناکر نصاریٰ کو مبہوت کررہے ہیں، یہ ایسے اَن پڑھ رسول ہیں کہ صحفِ موسیٰ و صحفِ ابراہیم کی باتیں سنا رہے ہیں، ایک اَن پڑھ رسول کی زبان سے میاں نے اپنی بولی بول کر تمام علمائے یہود و نصاریٰ کا علمی پندار اور سارے عرب کا زبان دانی کا ناز خاک میں ملادیا۔ اور معجزے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جب اس کے مقابلے سے ساری مخلوق عاجز ہو تو اس کو خالق کی طرف سے جان کر اپنے خالق پر ایمان لے آئے۔ اسی کو حضرت عارف رومی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ صد ہزاراں دفتر اشعار بود پیش حرف امیش آں عار بود ترجمہ: ’’فصحائے عرب کے پاس فصیح اور بلیغ اشعار کے لاکھوں دفتر موجود تھے، لیکن اس امّی رسول کے ایک حرف کے سامنے تمام دفتر کے دفتر اشعار کے ذخیرہ شرمندہ ہوکر رہ گئے۔‘‘ انبیاء علیہم السلام کے معجزات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے خالق اور پروردگارِ عالم ہونے کا یقین کرنا عقلاً ضروری ہے یعنی جب پیغمبروں کے معجزوں کے مقابلے سے تمام مخلوقات انفرادًا اور اجتماعًا عاجز ہیں تو عقل یہ کہتی ہے کہ ضرور کوئی ایسی ذات ہے جو ان مخلوقات پر غالب اور قادر اور حکمران ہے، یہ رسول صورت میں بشر ہے مگر عام انسانوں سے ممتاز ہے۔ یہ مثلیث ایسی ہے جیسے کہ ایک گلاس سڑی مٹی کا بنا ہوا اور ایک گلاس چاندی کا بنا ہوا اور اسی سانچے کا ایک گلاس تمام انمول جواہرات کو گلاکر ڈھال دیا گیا ہو تو وہ سڑی مٹی سے بنا ہوا گلاس