Deobandi Books

عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم

ہم نوٹ :

45 - 50
اور حکم ہوگیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا، اور پانی گھٹ گیا اور قصہ ختم ہوا۔
اس آیت کا تعلق واقعۂ طوفانِ حضرت نوح علیہ السلام سے ہے، ابنِ مقفع افصح العرب اس آیت کو سُن کر نادم ہوگیا، اور شرمندگی کے ساتھ اقرار کیا کہ بخدا! قرآن کی فصاحت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایک اَن پڑھ رسول کی زبان سے قرآن کے کلمات کی فصاحت و بلاغت سن کر عرب کے زبان دانوں کی آنکھیں کھل گئیں، کہ اللہ اکبر یہ فصاحت و بلاغت ایک اُمّی کی زبان سے! اور پھر مضامین کیسے کیسے ہیں، یہ ایسے اَن پڑھ رسول ہیں کہ علمائے یہود کو توریت کی باتیں سُناکر یہودیوں کو حیرت میں ڈال رہے ہیں، یہ ایسے اَن پڑھ رسول ہیں کہ انجیل کی باتیں سُناکر نصاریٰ کو مبہوت کررہے ہیں، یہ ایسے اَن پڑھ رسول ہیں کہ صحفِ موسیٰ و صحفِ ابراہیم کی باتیں سنا رہے ہیں، ایک اَن پڑھ رسول کی زبان سے میاں نے اپنی بولی بول کر تمام علمائے یہود و نصاریٰ کا علمی پندار اور سارے عرب کا زبان دانی کا ناز خاک میں ملادیا۔ اور معجزے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جب اس کے مقابلے سے ساری مخلوق عاجز ہو تو اس کو خالق کی طرف سے جان کر اپنے خالق پر ایمان لے آئے۔
اسی کو حضرت عارف رومی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں     ؎     
صد  ہزاراں  دفتر اشعار  بود
پیش  حرف  امیش آں عار بود
ترجمہ: ’’فصحائے عرب کے پاس فصیح اور بلیغ اشعار کے لاکھوں دفتر موجود تھے، لیکن اس امّی رسول کے ایک حرف کے سامنے تمام دفتر کے دفتر اشعار کے ذخیرہ شرمندہ ہوکر رہ گئے۔‘‘
انبیاء علیہم السلام کے معجزات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے خالق اور پروردگارِ عالم ہونے کا یقین کرنا عقلاً ضروری ہے یعنی جب پیغمبروں کے معجزوں کے مقابلے سے تمام مخلوقات انفرادًا اور اجتماعًا عاجز ہیں تو عقل یہ کہتی ہے کہ ضرور کوئی ایسی ذات ہے جو ان مخلوقات پر غالب اور قادر اور حکمران ہے، یہ رسول صورت میں بشر ہے مگر عام انسانوں سے ممتاز ہے۔ یہ مثلیث ایسی ہے جیسے کہ ایک گلاس سڑی مٹی کا بنا ہوا اور ایک گلاس چاندی کا بنا ہوا اور اسی سانچے کا ایک گلاس تمام انمول جواہرات کو گلاکر ڈھال دیا گیا ہو تو وہ سڑی مٹی سے بنا  ہوا  گلاس 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 تفسیر وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ 8 1
4 ایمان بالرسالت توحید کا لازمی جز ہے 9 1
5 ہجرت کا حکم عظمتِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل ہے 11 1
6 عرضِ مرتب 6 1
7 بے خودی چاہیے بندگی کے لیے 12 1
8 ہجرت کا حکم اور وطنیت کا بُت 12 1
9 بیتُ اللہ کے مختصر ہونے کی حکمت 13 1
10 کعبۃُاللہ کے ارد گرد سبزہ زار نہ ہو نےکے اسرار 13 1
11 بیت اللہ اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فاصلے کی عجیب حکمت 15 1
12 مدینہ منورہ سے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت 16 1
13 مدینہ منورہ میں مرنے کی فضیلت 17 1
14 صحابہ کرام کی نظر میں صحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت 19 1
15 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتِ شان 19 1
16 صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حالاتِ رفیعہ سے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتِ شان کی معرفت 23 1
17 عظمتِ رسالت کا منکر جہنمی ہے 28 1
18 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ کن لوگوں کو محبوب ہوتا ہے؟ 29 1
19 درود شریف کی اہمیت اور لفظ درود کے معانی 29 1
20 درود شریف کے کچھ مزید معانی 32 1
21 حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثل محبوبیت 32 1
22 درود شریف کی فضیلت پر بعض احادیثِ مُبارکہ 32 1
23 درود شریف کی ایک عجیب خصوصیت 33 1
24 درود شریف پڑھنے کا ایک دل نشین طریقہ 34 1
25 خواب میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت 35 1
26 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت پر رحمت و شفقت 36 1
27 حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ 39 1
Flag Counter