عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
تک یہ معجزہ قرآن کا ہر انسان پر حجت ہے کہ وہ عاجز ہو کر ایمان قبول کرے۔ حضرت عارف رحمۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ زہرہ نے کس راکہ یک حرفے ازاں یا بد زدد یا فزاید در بیاں ترجمہ: کسی کا پِتّہ نہیں کہ ایک حرف قرآن سے چراسکے یا ایک حرف قُرآن میں بڑھاسکے۔ اور صاحبِ قصیدہ بردہ شریف فرماتے ہیں ؎ دَامَتْ لَدَیْنَا فَفَاقَتْ کُلَّ مُعْجِزَۃٍ مِنَ النَّبِیِّیْنَ اِذْ جَاءَتْ وَلَمْ تَدُمٖ ترجمہ:قرآن کی آیاتِ مُبارکہ ہمارے پاس ہمیشہ رہیں گی، اس لیے یہ معجزہ اور انبیاء علیہم السلام کے معجزوں سے فائق و برتر ہوگیا۔ اور کیوں نہ ہوتا جبکہ آپ تمام نبیوں کے سردار ہیں تو آپ کا معجزہ بھی ایسا ہے جو تمام معجزوں کا سردار ہے۔ عجیب اللہ کی قدرت ہے کہ قرآن کے مقابلے میں جو آیا وہ ایسا بدحواس اور ازخود رفتہ ہوا کہ جو کچھ اُس نے کہا وہ لُعبۂ اطفال بن گیا۔ چناں چہ مسیلمہ کذّاب نے اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ کےمقابلے میں کہا اَلْفِیْلُ مَا الْفِیْلُ عُنُقُہٗ قَصِیْرٌ وَّذَنَبُہٗ طَوِیْلٌ اورکہتا تھا مجھ پر وحی آتی ہے۔ اس عبارت پر خود فصحائے عرب ہنس پڑے اور اُس کی اس حرکت کا مذاق اُڑایا گیا، بھلا یہ مضمون بھی کلامِ الٰہی ہوسکتا ہے کہ ’’ہاتھی، کون ہاتھی، جس کی سونڈ چھوٹی اور دم لمبی۔‘‘استغفراللہ! عرب کا فصیح اور بلیغ فرد ابنِ مقفع نامی شخص جوافصح العرب کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، چند آیاتِ قرآنیہ کے مقابلے میں اس نے بھی کچھ لکھا، لیکن جب کسی قاری سے قرآنِ پاک کی یہ آیت سُنی: وَ قِیۡلَ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ 49 _____________________________________________ 49 ؎ھود:44