عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
میں زائد ہی تھے، تو وہ تحریر کیسے ضایع ہوسکتی ہے، اس لیے یہ احتمال کہ کسی عرب کافر نے کسی آیتِ قرآنی کے مقابلے میں کچھ لکھا ہوگا، اور وہ تحریر گم ہوگئی ہو بالکل لغو اور خلافِ عقل ہے۔ چالیس برس کے بعد ظہورِ نبوت میں بڑے اسرار ہیں جن کی پوری خبر حق تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس مقام کے مناسب ایک حکمت یہ بھی ہے کہ چالیس برس تک حق تعالیٰ شانہ‘نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کا مشاہدہ کرایا وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ 47؎آپ خلق عظیم پر ہیں عَلٰی آتا ہے استعلاء کے لیے، اسی لیے اردو میں عَلٰی ا ترجمہ پر سے کیا جاتا ہے، پس اس آیت کا مفہوم ہوا کہ خلق عظیم ایک سواری ہے، جس پر آپ شہسوار ہیں، جس طرف چاہتے ہیں ہر خلق کی باگ کو پھیر دیتے ہیں۔ یعنی تمام اخلاقِ حسنہ پر آپ کو ایسا رسوخ علٰی وجہ الکمال حاصل تھا کہ کوئی خُلق سرِمُو حدِ اعتدال سے جنبش نہیں کرسکتا تھا کہ کیا مجال کہ سرِمُو آگے بڑھ سکے یا پیچھے ہٹ سکے، جہاں چاہا وہیں سے باگ پھیر دی۔ اس آیت کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع تعریف حق تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے۔ اے اہل عرب! چالیس برس تک تم لوگوں نے اپنے معاملات میں میرے رسول کی صداقت و امانت کا مشاہدہ اور تجربہ کیا ہے جس کا مقتضا تو یہ تھا کہ میرے رسول کےاعلانِ رسالت پر تمہارے دلوں میں کھٹک نہ ہونی چاہیےتھی، لیکن پھر بھی اگر کج روی سے انکار کرتے ہو تو قرآن کا معجزہ دیکھ کر ایمان لاؤ، کیوں کہ جب قرآن کے مقابلے سے تمام مخلوقات جن و انس عاجز ہیں اور قیامت تک عاجز رہیں گے تو کھلی بات ہے کہ یہ خالق کا کلام ہے۔ ہر نبی کو وقتی معجزہ دیا جاتا تھا کیوں کہ ایک نبی کے بعد دوسرا نبی جب مبعوث ہوتا تھا تو اُس آنے والے پیغمبر کو اُس وقت کے مناسب دوسرا معجزہ عطا فرمایا جاتا تھا، لیکن چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اس لیے آپ کو ایک ایسا معجزہ دیا گیا جو قیامت تک باقی رہے گا وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ 48؎ اور حق تعالیٰ نے اس کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی ہے۔ چناں چہ روئے زمین پر کروڑہا انسانوں کے سینوں میں یہ قرآنِ مجید محفوظ رہتا ہے۔ پس قیامت _____________________________________________ 47 ؎القلم:4 48؎الحجر:9