عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کو ڈھونڈتے رہتےہیں۔ میرے شیخ اوّل حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃاللہ علیہ اس کا ترجمہ یوں فرماتے تھے کہ صحابہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو سونگھتے پھرتے ہیں کہ کیا کرلوں کہ میرا رب خوش ہوجائے۔ اُن کے اخلاص کا یہ اثر ہے کہ ؎ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ اُن کی عبدیت کے آثار بوجہ تاثیرِ سجدہ کے اُن کے چہروں سے نمایاں ہورہے ہیں، یہ آثار خشوع و خضوع کے انوار ہیں جو مومن متقی کے چہرے میں مُشاہدہ کیے جاتے ہیں، کمالِ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہروں پر نُور ہے۔ میرے شیخ فرماتے تھے کہ دل جب نُور سے بھر جاتاہے تو آنکھوں سے چھلکنے لگتا ہے، چہرے سے جھلکنے لگتا ہے۔ اسی کو علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں سِیْمَا کی تفسیر میں فرمایا: ھُوَ نُوْرٌ یَّظْھَرُ عَلَی الْعَابِدِیْنَ یَبْدُوْ مِنْ بَاطِنِھِمْ عَلٰی ظَاھِرِھِمْ 19؎سیما ایک نور ہے جو اللہ کے عبادت گزار بندوں پر اُن کے باطن سے چھلک کر اُن کے ظاہر پر نمایاں ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بتادیا کہ یہ اوصاف جو صحابہ میں پیدا ہوئے یہ اُن کی ذاتی صفات نہیں تھیں بلکہ چوں کہ وہ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ تھے یعنی معیتِ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو حاصل تھی یہ اُسی معیت کا فیض تھا کہ اب قیامت تک اُن کا مثل پیدا نہیں ہوسکتا،کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی ایک ادنیٰ صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا کیوں کہ اب سیدالانبیاء خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کسی کو میسر نہیں ہوسکتی۔ جو وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ 20؎کے مصداق تھے، کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے اب نورِمحمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس پڑجانے سے ہدایت کے چراغ بن گئے، ہر صحابی ستارۂ ہدایت بن گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: _____________________________________________ 19؎روح المعانی:125/26،الفتح(29)،داراحیاءالتراث،بیروت 20؎اٰلِ عمران:168