Deobandi Books

عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم

ہم نوٹ :

26 - 50
ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کو ڈھونڈتے رہتےہیں۔ میرے شیخ اوّل حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃاللہ علیہ اس کا ترجمہ یوں فرماتے تھے کہ صحابہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو سونگھتے پھرتے ہیں کہ کیا کرلوں کہ میرا رب خوش ہوجائے۔ اُن کے اخلاص کا یہ اثر ہے کہ     ؎
سِیۡمَاہُمۡ  فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ  مِّنۡ  اَثَرِ السُّجُوۡدِ 
اُن کی عبدیت کے آثار بوجہ تاثیرِ سجدہ کے اُن کے چہروں سے نمایاں ہورہے ہیں، یہ آثار خشوع و خضوع کے انوار ہیں جو مومن متقی کے چہرے میں مُشاہدہ کیے جاتے ہیں، کمالِ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہروں پر نُور ہے۔ میرے شیخ فرماتے تھے کہ دل جب نُور سے بھر جاتاہے تو آنکھوں سے چھلکنے لگتا ہے، چہرے سے جھلکنے لگتا ہے۔
اسی کو علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں سِیْمَا کی تفسیر میں فرمایا:
ھُوَ نُوْرٌ یَّظْھَرُ عَلَی الْعَابِدِیْنَ یَبْدُوْ مِنْ بَاطِنِھِمْ عَلٰی ظَاھِرِھِمْ19؎
سیما  ایک نور ہے جو اللہ کے عبادت گزار بندوں پر اُن کے باطن سے چھلک کر اُن کے ظاہر پر نمایاں ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بتادیا کہ یہ اوصاف جو صحابہ میں پیدا ہوئے یہ اُن کی ذاتی صفات نہیں تھیں بلکہ چوں کہ وہ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ تھے یعنی معیتِ رسولِ  پاک صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو حاصل تھی یہ اُسی معیت کا فیض تھا کہ اب قیامت تک اُن کا مثل پیدا نہیں ہوسکتا،کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی ایک ادنیٰ صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا کیوں کہ اب سیدالانبیاء خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کسی کو میسر نہیں ہوسکتی۔ جو وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ20؎کے مصداق تھے، کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے اب نورِمحمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس پڑجانے سے ہدایت کے چراغ بن گئے، ہر صحابی ستارۂ ہدایت بن گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
_____________________________________________
19؎  روح المعانی:125/26،الفتح(29)،داراحیاءالتراث،بیروت
20؎  اٰلِ عمران:168
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 تفسیر وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ 8 1
4 ایمان بالرسالت توحید کا لازمی جز ہے 9 1
5 ہجرت کا حکم عظمتِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل ہے 11 1
6 عرضِ مرتب 6 1
7 بے خودی چاہیے بندگی کے لیے 12 1
8 ہجرت کا حکم اور وطنیت کا بُت 12 1
9 بیتُ اللہ کے مختصر ہونے کی حکمت 13 1
10 کعبۃُاللہ کے ارد گرد سبزہ زار نہ ہو نےکے اسرار 13 1
11 بیت اللہ اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فاصلے کی عجیب حکمت 15 1
12 مدینہ منورہ سے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت 16 1
13 مدینہ منورہ میں مرنے کی فضیلت 17 1
14 صحابہ کرام کی نظر میں صحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت 19 1
15 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتِ شان 19 1
16 صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حالاتِ رفیعہ سے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتِ شان کی معرفت 23 1
17 عظمتِ رسالت کا منکر جہنمی ہے 28 1
18 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ کن لوگوں کو محبوب ہوتا ہے؟ 29 1
19 درود شریف کی اہمیت اور لفظ درود کے معانی 29 1
20 درود شریف کے کچھ مزید معانی 32 1
21 حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثل محبوبیت 32 1
22 درود شریف کی فضیلت پر بعض احادیثِ مُبارکہ 32 1
23 درود شریف کی ایک عجیب خصوصیت 33 1
24 درود شریف پڑھنے کا ایک دل نشین طریقہ 34 1
25 خواب میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت 35 1
26 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت پر رحمت و شفقت 36 1
27 حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ 39 1
Flag Counter