عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّھِمُ اقْتَدَیْتُمُ اھْتَدَیْتُمْ 21؎میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، اُن میں سے تم جس کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پاجاؤ گے۔مشکوٰۃِ نبوت سے جس صحابی پر جس قسم کی جو شعاع پڑگئی وہ اُس کا مصداق ہوگیا۔ نگاہِ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق پر پڑی تو اَرْحَمُ اُمَّتِیْ بِاُمَّتِیْ اَبُوْ بَکْرٍ ہوگئے کہ میری اُمّت میں میری اُمّت پر سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر ہیں اور اسی نگاہ مُبارک کے صدقے میں شبِ معراج کی ایک تصدیق سے آپ صدیق ہوگئے جس کو مولانا رومی فرماتے ہیں ؎چشم احمد بر ابو بکرے زدہ از یکے تصدیق صدیق آمدہ حضرت ابوبکر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ مبارک کا ایسا فیضان ہوا کہ ایک تصدیق سے وہ صدیق ہوگئے اور صدیق آئینۂ نبوت ہوتا ہے۔ اور مشکوٰۃِ نبوت سے فاروق بین الحق والباطل کی ایک شعاع حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑگئی اورآپ فاروق ہوگئے، اور اسی نگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَشَدُّھُمْ فِیْ اَمْرِ اللہِ عُمَرُ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں سب سے اشد عمر ہیں۔ حیائے نبوت کی ایک شعاع نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اَصْدَقُھُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ بنادیا کہ میرے صحابہ میں حیا کے اعتبار سے سب سے بڑھے ہوئے حضرت عثمان ہیں۔ اور نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شعاع کے فیضان ہی سے آپ ذوالنورین بھی ہوگئے۔ اور نگاہِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فیض تھا کہ جس نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علوم و معارف سے آراستہ کرکےبابُ العلم (علم کا دروازہ) اور اسدُاللہ (شیرِِخُدا) اور اَقْضٰھُمْ عَلِیٌّ 22 ؎ یعنی سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا بنادیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ایک لفظ مَعَہٗۤ نازل کرکے بتادیا کہ معیتِ رُسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی کایا پلٹ دی اور جیسا کہ اوپر حدیثِ پاک مذکور ہوئی کہ ہر صحابی _____________________________________________ 21؎صحیح البخاری:3474/1(3461) ، باب ماذکرعن بنی اسرائیل، المکتبۃ المظہریۃ 22؎جامع الترمذی: 219/2، باب مناقب معاذ بن جبل، ایج ایم سعید