عظمت رسالت صلی اللہ علیہ و سلم |
ہم نوٹ : |
|
و شرک سے ایسی شدید نفرت ہوگئی کہ آگ میں جل جانا اُن کو کُفر پر لوٹ جانے سے زیادہ محبوب ہے، جان مال آل اولاد سب سے زیادہ اب اللہ پیارا ہوگیا، جو شدّتِ غضب پہلے اللہ اور اللہ کے عاشقوں سے تھی رسولِ پاک کی معیت و صحبت کی برکت سے اب وہ شدت اللہ کے دشمنوں پر محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے صَرف ہونے لگی جس کو اللہ تعالیٰ اس آیت میں موقع مدح میں بیان فرمارہے ہیں: اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ میرے نبی کے صحبت یافتہ کافروں کے مقابلے میں بہت اشد، بہت سخت اور تیز ہیں لیکن آپس میں اُن کا کیا حال ہے: رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ آپس میں بہت مہربان ہیں، ایک دوسرے پر فدا ہیں یہ اس مَعَہٗۤ کا فیض ہے کہ جو محبت پہلے نفسانی خواہشات کے لیے تھی میرے نبی کی صحبت نے اس کا رُخ بدل دیا اور وہی محبت اب اللہ کے لیے اللہ سے محبت کرنے والوں پر نثار ہونے لگی۔ میرے رسول کی معیت کا فیض دیکھو کہ بندوں کے ساتھ اُن کے اخلاق میں یہ حیرت انگیز انقلاب آگیا اور میرے ساتھ اُن کی عبادت کا کیا مقام ہے: تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا تم دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں جھکے ہوئے ہیں ،کبھی سجدہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ جو لوگ کبھی باطل خداؤں کی عباد ت کیا کرتے تھے میرے رسول کی صحبت نے اس محبت کا رخ پھیر دیا اور باطل معبودوں کے سامنے جھکنے والے سروں کو معبودِ حقیقی کے سامنے جھکادیا۔ اور اُن کے اخلاق و اعمال میں یہ انقلاب کس وجہ سےآیا؟ کافروں کے ساتھ شدت اور ایمان والو ں کے ساتھ محبت و رحمت اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں رکوع و سجود میں انہماک کس غرض کے لیے تھا؟ اسی آیت میں آگے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللہِ وَ رِضۡوَانًا