ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2014 |
¾اكستان Ù |
|
اور اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کا نکاح بارہ اَوقیہ چاندی سے زیادہ پر کیا ہو۔'' (مشکوة شریف ج٢ ص٢٧٧) اور ایسے شخص کے بارے میں آنحضرت ۖ نے سخت وعید فرمائی ہے جو مہر مقرر کرکے شروع سے اَدانہ کرنے کا خیال رکھتا ہو، اِرشاد ہے : ''جو شخص کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر نکاح کرے اور اُس کے دل میں اِس حق کو اَدا کرنے کا خیال نہ ہو تو اگر وہ عورت کا حق اَداکیے بغیر مرگیا تو قیامت کے دن اللہ کے دربار میں ''زانی'' کی حالت میں لایا جائے گا۔'' ( مجمع الزوائد ٢٨٤٤) اِس لیے مہروں کی اَدائیگی کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور اِتنی مہریں نہیں باندھنی چاہئیں جن کی اَدائیگی دُشوار ہو جائے، آنحضرت ۖ کی اَکثر اَزواجِ مطہرات اور صاحبزادیوں کی مہر پانچ سو درہم چاندی منقول ہے، اِس کو'' مہر فاطمی'' کہا جاتا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کی تحقیق کے مطابق اِس کا وزن ١٣١ تولہ تین ماشہ چاندی ہے۔ (جواہر الفقہ١ /٤٢٤) اور موجودہ اَوزان کے اِعتبار سے اِس کی مقدار ایک کلو پانچ سو تیس گرام نو سو ملی گرام چاندی ہوتی ہے۔ (اَیضاًح المسائل) (یعنی ٨٠٠٠ روپے فی کلو کے حساب سے ١٢ہزار تین سو روپے مہر فاطمی کی قیمت ہوگی)۔ ١ علماء نے مہر فاطمی کی دیگر تعدادیں بھی نقل فرمائی ہیں اِس لیے نکاح خواں اور نکاح کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ جب نکاح پڑھا جائے تو جس تحقیق پر عمل مقصود ہو اُس کا وزن وغیرہ بھی صراحةً بیان کردیں اور رجسٹر نکاح میں درج کردیں تاکہ بعد میں نزاع کا اَندیشہ نہ رہے ۔مہر فاطمی مقرر کرنا اگر چہ ضروری نہیں ہے لیکن اگر زیادتی مقصود ہو تو اُسے ہی مقرر کرنے میں ایک سنت نبوی ۖ سے مطابقت بھی ہو جائے اور برکت حاصل ہونے کا سبب ہو۔ اِسی بنا پر بعض اَکابر علماء خاص کر شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمد مدنی اِس پرعمل کی ترغیب دیتے تھے۔(جاری ہے) ض ض ض ١ آج کل کے حساب سے ١٣١ تولہ تین ماشہ چاندی کی قیمت 85,345 روپے بنتی ہے۔