Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

376 - 465
(١٧٥١) ولا یفتقرالی النےة)  ١  لانہ صریح فیہ لغلبة الاستعمال (١٧٥٢) وکذا اذا نوی الابانة )     
  ١  لانہ قصد تنجیز ما علقہ الشرع بانقضاء العدة فیرد علیہ 

طلاق الحائض بغیر رضاھا ص ٤٧٥ نمبر ٣٦٥٨١٤٧١ ترمذی شریف ،نمبر ١١٧٥ ابو داؤد شریف ،نمبر ٢١٨٤)(٣)اور اگلی روایت میں ہے عن ابن عمر قال حسبت علی بتطلیقة (بخاری شریف ، باب اذا  طلقت الحائض تعتد بذلک الطلاق ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥٣ مسلم شریف ،نمبر ٣٦٥٨١٤٧١) ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ صریح الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہو گی اور ایک طلاق واقع ہوگی۔
ترجمہ: (١٧٥١) اور نیت کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
ترجمہ:    ١  اس لئے کہ اس میں صریح ہے عام استعمال کی وجہ سے ۔ 
تشریح:  طلاق کے صریح الفاط کر نے کے بعد طلاق دینے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہے جس طرح الفاظ کنایہ میں نیت کی ضرورت ہے ، بلکہ الفاظ بولتے ہی طلاق واقع  ہو جائے گی ۔، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ طلاق کے معنی میں عام استعمال ہو تے ہیں۔
وجہ:  (١)  نیت کر نے کی ضرورت کنایہ الفاظ میں ہوتی ہے ، صریح الفاظ میں نہیں ہو تی ۔ (٢) اثر میں ہے۔عن الشعبی قال النیة فیما خفی فاما فیما ظھر فلا نیة فیہ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة،٩٦ ماقالوا فی رجل یطلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا ،ج رابع، ص١١٥، نمبر ١٨٣٦١ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ صریح الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہے 
ترجمہ:  (١٧٥٢) ایسے ہی اگر بائنہ ہو نے کی نیت کی ۔
 ترجمہ:    ١  اس لئے کہ جسکو شریعت نے عدت کے ختم ہو نے پر معلق کیا اس کو جلدی کر نے کا ارادہ کیا اس لئے اس کا ارادہ اس پر لوٹا دیا جائے گا ۔ 
تشریح:   طلاق کے لئے الفاظ صریح استعمال کر کے طلاق بائنہ کی نیت کی تب بھی بائنہ واقع نہیں ہو گی ، طلاق رجعی واقع ہو گی ، اس لئے کہ شریعت نے یہ کیا کہ عدت ختم ہو تب یہ عورت بائنہ ہو اور اس نے ابھی بائنہ کر نے کی کو شش کی اس لئے اس کی نیت نہیں مانی جائے گی ، طلاق رجعی ہی واقع ہو گی ۔ 
وجہ:   اس اثر میں اس کا ثبوت ہے (١) عن الحسن فی رجل طلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا قال ھی واحدة۔(مصنف ابن ابی شیبة ،٩٥ ماقالوا فی رجل یطلق امرأتہ واحدة ینوی ثلاثا ،ج رابع ،ص ١١٥، نمبر١٨٣٦٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ صریح الفاظ میں تین کی نیت کرے تب بھی تین واقع نہیں ہوگی ایک ہی واقع ہوگی، اسی طرح بائنہ کی نیت کی تب بھی بائنہ 

Flag Counter