(١٥٦٢) واذا زوجت المرأة نفسہا من غیر کفو فللاولیاء ان یفرقوا بینہما ) ١ دفعاً لضرر العار عن انفسہم (١٥٦٣) ثم الکفاء ة تعتبر فی النسب )
]کوئی حرج نہیں ہے [ اس لئے کہ شوہر فراش بنانے والا ہے اس لئے فراش کا کمینہ ہو نا اس کو غضبناک نہیں بنائے گا ۔
تشریح : یہ کفو ہو نے کی دلیل عقلی ہے ، کہ عادت کے اعتبار سے یہ ہے کہ دو برابر درجے کے ہوں تب ہی گھر کی مصلحت اچھی چلتی ہے ، اس لئے کہ عورت مرد کا فراش بنتی ہے یعنی اس کے نیچے لیٹتی ہے ، اور یہ فطری بات ہے کہ عورت اعلی درجے کی ہو تو وہ اپنے سے نیچے درجے کی فراش بننا پسند نہیں کرتی اس لئے یہ ضروری ہے کہ شوہر نسب اور پیشے کے اعتبار سے عورت کے برابر ہو ۔ اس کے برخلاف شوہر عورت کو فراش بناتا ہے اس لئے وہ اگر اپنے سے نیچے درجے کی عورت کو فراش بنا لے تو اس کی طبیعت پر بار نہیں ہو تا اس لئے اگر کم درجے کی عورت سے شادی کر لے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔
اصول : ۔ مرد عورت کے برابر ہو اور کفو ہو یہ زیادہ اہم ہے ۔ لیکن عورت مرد سے نیچے درجے کی ہو تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
لغت: تابی : ابی سے مشتق ہے ، طبیعت کا انکار کر نا ، نفرت کر نا ۔ مستفرش : فراش سے مشتق ہے ، بچھونا، نیچے لیٹنا ، بیوی بننا یہاں یہی مراد ہے ۔خسیس : نیچے درجے کے لوگ ، کمینہ ۔ تغیظ : غیظ سے مشتق ہے ، غصہ ہو نا ، غضبناک ہو نا ۔دنائة : دنی سے مشتق ہے ، کم درجے کا ہو نا ۔
ترجمہ : (١٥٦٢) اگر عورت نے اپنا نکاح غیر کفو کے ساتھ کیا تو اولیاء کے لئے جائز ہے کہ دونوں کے درمیان تفریق کرادے۔
ترجمہ : ١ اپنے آپ سے عار کو دفع کر نے کے لئے۔
تشریح : اگر عورت نے اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں شادی کرلی تو اولیاء کو حق ہے کہ قاضی کی قضا سے اس کو توڑ وادے۔
وجہ: (١) غیر کفو میں شادی کی تو اس سے ولی کو شرمندگی ہوگی ۔اس لئے اس شرمندگی کو دور کرنے کے لئے وہ قاضی کے ذریعہ نکاح توڑوا سکتے ہیں (٢) حدیث میں اس کا ثبوت ہے۔عن بریدة عن ابیہ قال جائت فتاة الی النبی ۖ فقالت ان ابی زوجنی ابن اخیہ لیرفع بی خسیستہ قال فجعل الا مر الیھا فقالت قد اجزت ما صنع ابی ولکن اردت ان تعلم النساء ان لیس الی الآباء من الامر شیء ۔ (ابن ماجہ شریف، باب من زوج ابنتہ وھی کارھة ص ٢٦٨ نمبر ١٨٧٤) اس حدیث میں لڑکی نے حضورۖ کے ذریعہ جو وقت کے قاضی بھی تھے نکاح توڑوایا اور نکاح توڑنے کا اختیار لیا۔یہ اور بات ہے کہ بعد میں اس نکاح کو عورت نے جائز قرار دے دیا۔اس لئے یہاں بھی غیر کفو میں شادی کی ہو تو اولیاء کو قاضی کے ذریعہ توڑوانے کا حق ہوگا۔
ترجمہ : (١٥٦٣) اور کفوکا اعتبار کیا جائے گا نسب میں۔