ثبوت قیامت اور اس کے دلائل قرآن پاک کی روشنی میں |
ہم نوٹ : |
|
دعا اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ کی انوکھی تشریح اب ایک دعا سکھاتا ہوں جس کی برکت سے ہم اور آپ قیامت میں سرخ رُو ہوجائیں گے اور ان شاء اللہ قیامت میں رسوا نہ ہوں گے۔ وہ ترمذی شریف کی دعا ہے۔ یہ مضمون آج میں نے کراچی سے آتے ہوئے بس میں بیان کیا۔ اچانک وارد ہوا تھا۔ دوستوں نے کہا کہ زندگی میں پہلی دفعہ ایسا مضمون سنا ہے۔ دوبارہ اس لیے بیان کررہا ہوں تاکہ آپ لوگ بھی سُن لیں۔ اِس دعا کو آج سے اپنے اوپر لازم کرلیجیے، ان شاء اللہ تعالیٰ اِس دعا کی برکت سے رشد وہدایت نصیب ہوگی اور قیامت کے دن ہم سرخ رو ہوں گے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ ایک کافر اپنے صحابی بیٹے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کےساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! اگر میں ایمان لاؤں تو آپ مجھے کیا دیں گے؟ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو ایمان لے آیا تو میں تجھے دو نعمتیں دوں گا۔ کچھ دن کے بعد وہ ایمان لے آئے اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! میں ایمان لے آیا، آپ اپنا وعدہ پورا کردیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو نعمت دینے کا وعدہ تھا، لے، دونوں لے لے، یہ وعدۂ رسالت ہے، عام انسانوں کا وعدہ نہیں ہے۔ نمبر ایک نعمت یہ ہے کہ ہمیشہ یہ دعا کیا کر اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ اے اللہ! ہدایت کی باتیں میرے دل میں الہام فرماتے رہیے، اَلْھِمْنِیْ امر ہے اور امر بنتا ہے مضارع سے اور مضارع میں دو زمانے ہوتے ہیں، حال اور استقبال، مطلب یہ کہ اپنی خوشی اور ہدایت کی راہوں کو اِس وقت بھی میرے دل میں ڈالتے رہیے اور آیندہ بھی ڈالتے رہیے، کیوں کہ اگر آپ کا الہامِ ہدایت ہمارے قلب کو نصیب نہیں ہوگا تو ہمارے اجسام گناہوں کے گٹر میں گرجائیں گے۔ رُشد کے معانی پر قرآنِ پاک سے عجیب استدلال معلوم ہوا کہ رُشد ایک نعمت ہے، مگر رُشد کو سمجھنے کے لیے قرآن شریف سے مدد لینی پڑے گی، کیوں کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علومِ نبوت مقتبس ہیں انوارِ قرآن سے،آپ کے تمام علومِ نبوت کا اللہ تعالیٰ کے کلام سے اقتباس کیا گیا ہے۔ چناں چہ دیکھنا پڑے گا کہ قرآن شریف میں رُشد کہاں آیا ہے؟ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ