نزول سکینہ |
§ہم نوٹ : |
|
یَتَخَلَّصُ عَنِ الطَّیْشِ 8؎ یعنی ایسے شخص کو بے سکونی اور پریشانی سے نجات مل جاتی ہے، دل ایک دم ٹھنڈا رہتا ہے، جب کوئی پریشانی آئی، دو رکعات پڑھیں، اللہ میاں سے رولیا او رمطمئن ہوگیا ؎ آلام روزگار کو آساں بنادیا جو غم ملا اسے غمِ جاناں بنادیا میرا بھی ایک شعر ہے اُردو کا ؎ ہر لمحۂ حیات گذارا ہم نے آپ کے نام کی لذت کا سہارا لے کر اگر اللہ سے تعلق نہ ہو تو کیسے جیتے ہیں لوگ؟ ان کے جینے پر اہل اللہ تعجب کرتے ہیں۔ تو یَتَخَلَّصُ عِنِ الطَّیْشِ، یَتَخَلَّصُ کے کیا معنیٰ ہیں؟ یعنی خلاصی پاجاتے ہیں بے سکونی سے۔ علامہ آلوسی نے طَیْشِ کی تفسیر کی ہے کَالْکَلْبِ الطَّائِشِ جیسے پاگل کتا، لَایَقْصُدُ فِی الْمَشْیِ سِمْتًا وَّاحِدًا پاگل کتا ایک سمت کو سیدھا نہیں چلتا، اس طرح چلتا ہے کبھی دائیں کبھی بائیں، جب کوئی کتا اسی طرح چلے تو سمجھ لو پاگل ہے، اپنی ٹانگ بچاکر بھاگو۔ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں آسمان سے اللہ کا نور نہیں اُترتا وہ پاگل کتے کی طرح رہتا ہے۔ ہر گیٹ کو جھانکتا ہے، ہر فلیٹ کو دیکھتا ہے، راستہ چلتے ہوئے داہنے بائیں پاگل کتے کی طرح جھانکتا رہتا ہے کہ شاید کوئی شکلِ نمکیں نظر آجائے، وہ شاید پر عمل کرتا ہے، سکون نہیں ہے۔ میں نے بچپن میں ایک شعر پڑھا تھا جب بالغ بھی نہیں ہوا تھا، اس سے میرے مزاج کا اندازہ آپ کو ہوجائے گا کہ ایک نابالغ بچہ اور اس شعر کو یاد کرکے جو اب تک دماغ سے نہیں نکلا۔ وہ کیا شعر ہے ؎ نت نیا روز مزہ چکھنے کا لپکا ان کو میرا معمول تھا کہ اماں جب مجھ سے مرچ دھنیا منگاتی تھیں تو مرچ وغیرہ ان کے چولہے کے پاس ڈال دیا کہ یہ لیجیے اور اس کاغذ کو دیکھتے تھے کہ کوئی شعر تو اس میں نہیں ہے کیوں کہ اکثر لوگ کتاب بنیوں کے ہاتھ بیچ دیتے تھے تو یہ ایک شعر ایسے ہی مل گیا تھا ؎ _____________________________________________ 8 ؎روح المعانی:25/11، الفتح(4) ، دار احیاء التراث، بیروت