Deobandi Books

نزول سکینہ

§ہم نوٹ :

25 - 34
 یَتَخَلَّصُ عَنِ الطَّیْشِ8؎
 یعنی  ایسے شخص کو بے سکونی اور پریشانی سے نجات مل جاتی ہے، دل ایک دم ٹھنڈا رہتا ہے، جب کوئی پریشانی آئی، دو رکعات پڑھیں، اللہ میاں سے رولیا او رمطمئن ہوگیا     ؎
آلام   روزگار   کو   آساں   بنادیا
جو  غم  ملا  اسے  غمِ  جاناں   بنادیا
میرا بھی ایک شعر ہے اُردو کا     ؎
ہر   لمحۂ   حیات   گذارا    ہم   نے
آپ کے نام کی لذت کا سہارا  لے کر
اگر اللہ سے تعلق نہ ہو تو کیسے جیتے ہیں لوگ؟ ان کے جینے پر اہل اللہ تعجب کرتے ہیں۔ تو یَتَخَلَّصُ عِنِ الطَّیْشِ، یَتَخَلَّصُ کے کیا معنیٰ ہیں؟ یعنی خلاصی پاجاتے ہیں بے سکونی سے۔ علامہ آلوسی نے طَیْشِ کی تفسیر کی ہے کَالْکَلْبِ الطَّائِشِ جیسے پاگل کتا،لَایَقْصُدُ فِی الْمَشْیِ سِمْتًا وَّاحِدًا پاگل کتا ایک سمت کو سیدھا نہیں چلتا، اس طرح چلتا ہے کبھی دائیں کبھی بائیں، جب کوئی کتا اسی طرح چلے تو سمجھ لو پاگل ہے، اپنی ٹانگ بچاکر بھاگو۔ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں آسمان سے اللہ کا نور نہیں اُترتا وہ پاگل کتے کی طرح رہتا ہے۔ ہر گیٹ کو جھانکتا ہے، ہر فلیٹ کو دیکھتا ہے، راستہ چلتے ہوئے داہنے بائیں پاگل کتے کی طرح جھانکتا رہتا ہے کہ شاید کوئی شکلِ نمکیں نظر آجائے، وہ شاید پر عمل کرتا ہے، سکون نہیں ہے۔ میں نے بچپن میں ایک شعر پڑھا تھا جب بالغ بھی نہیں ہوا تھا، اس سے میرے مزاج کا اندازہ آپ کو ہوجائے گا کہ ایک نابالغ بچہ اور اس شعر کو یاد کرکے جو اب تک دماغ سے نہیں نکلا۔ وہ کیا شعر ہے   ؎
نت   نیا   روز  مزہ  چکھنے  کا   لپکا   ان  کو
میرا معمول تھا کہ اماں جب مجھ سے مرچ دھنیا منگاتی تھیں تو مرچ وغیرہ ان کے چولہے کے پاس ڈال دیا کہ یہ لیجیے   اور اس کاغذ کو دیکھتے تھے کہ کوئی شعر تو اس میں نہیں ہے کیوں کہ اکثر لوگ کتاب بنیوں کے ہاتھ بیچ دیتے تھے تو یہ ایک شعر ایسے ہی مل گیا تھا   ؎
_____________________________________________
8 ؎   روح المعانی:25/11، الفتح(4) ، دار احیاء التراث، بیروت
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرض مرتب 6 1
3 نزولِ سکینہ 8 1
4 قربِ عبادت اور قربِ ندامت 9 1
5 تذکرہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ 10 1
6 غم دنیا سے ڈرنا خامی عشق کی دلیل ہے 11 1
7 اللہ کی محبت میں تڑپنے کا مطلب 12 1
8 رابطہ عبد و معبود 13 1
9 مرتبۂ روح میں عارفین کی پرواز 14 1
10 مرنے والوں پر مرنا انتہائی بے وقوفی ہے 15 1
11 نمکین پانی پیاس کا علاج نہیں 15 1
12 سلوک کا نقطۂ آغاز غیراللہ سے گریز ہے 16 1
13 بدنظری کے حرام ہونے کی ایک عجیب حکمت 16 1
14 اہل عقل کون لوگ ہیں؟ 17 1
15 فرشتوں کو قربِ ندامت حاصل نہیں 17 1
16 انعام اشکِ ندامت 18 1
17 گریۂ ندامت و کفارۂ معصیت پر نفس کی پریشانی 19 1
18 الہامِ فجور سے نورِ تقویٰ ہونے کی عجیب مثال 19 1
19 کثیر الشہوۃ مجاہدہ کی بدولت قوی النور ہوتا ہے 20 1
20 اولیائے اللہ کی باطنی لذتوں سے سلاطین دنیا بے خبر ہیں 21 1
21 سکینہ کیا ہے اور کہاں نازل ہوتا ہے؟ 22 1
22 نزولِ سکینہ کے موانع 22 1
23 سکینہ کی تین تفسیریں 22 1
26 پہلی تفسیر اور علامت 22 23
27 نورِ سکینہ کے حصول اور حفاظت کا طریقہ 23 23
28 نزولِ سکینہ کی دوسری علامت 24 23
29 تیسری علامت 24 23
30 نزولِ سکینہ ازدیادِ ایمان یعنی نسبتِ خاصہ کا ذریعہ 26 1
31 ایمانِ عقلی استدلالی موروثی و ایمانِ ذوقی حالی وجدانی کی تمثیل 27 1
32 ذکر اللہ سے نزولِ سکینہ کی دلیل نقلی اور ایک علم عظیم 28 1
Flag Counter