Deobandi Books

نزول سکینہ

§ہم نوٹ :

20 - 34
ہے اور اس سے روٹی پکاتا ہے۔ وہ اوپلے جو کالے کالے بدبودار تھے تنور میں سرخ لال ہوجاتے ہیں، وہ نجاست اب پاک صاف اور لال و سرخ ہورہی تھی اور اسی سے روٹی پک رہی ہے۔ تو اگر نجاست کا مٹیریل تھوڑا سا ہوتا تو پتلا سا اوپلا بنتا جو ایک ہی روٹی پکانے میں ختم ہوجاتا، مٹیریل زیادہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ سورج اس کو موٹا اوپلا بناکر اس سے زیادہ روٹیاں پکوادیتا ہے، لہٰذا جس کے دل میں زیادہ گناہوں کے تقاضے ہیں سمجھ لو کہ یہ بہت کثیر النور ہونے والا ہے جس سے کہ اللہ کی عبادت کے انوار تیار ہوں گے، اللہ کی محبت کی روٹیاں تیار ہوں گی، اللہ کی محبت کی بریانیاں پکیں گی۔ بشرطیکہ آپ اوپلا کھا نہ لیں یعنی تقاضوں پر عمل نہ کرلیں، جو گناہ کے تقاضے پرعمل کرتا ہے اس ظالم نے اوپلا اور کنڈے کو اور لکڑی اور ایندھن کو کھالیا، ایندھن کھانے کے لیے نہیں ہے پکانے کے لیے ہے،یہ گناہوں کے تقاضے تقویٰ کی بریانی پکانے کے لیے اللہ نے دیے ہیں، کھانے کے لیے نہیں ہیں، ان پر عمل نہ کرو، گناہو ں کے تقاضوں کے ایندھن کو اللہ کے خوف کی آگ میں جلادو، پھر سمجھ لو کہ تقاضوں کا وہ اوپلا اور گوبر تنور میں آکر لال ہوگیا، اب اس سے انوارِ عبادت پیدا ہورہے ہیں،اللہ کی محبت کی روٹیاں پک رہی ہیں، اسی سے تقویٰ کی بریانیاں تیار ہورہی ہیں۔
کثیر الشہوۃ مجاہدہ کی بدولت قوی النور ہوتا ہے
ایک خاص بات یہ بتاتا ہوں کہ جس کے اندر گناہ کے تقاضوں کا مٹیریل زیادہ ہوتا ہے اس سے دین کا زیادہ کام لیا جاتا ہے،یہ بہت خاص بات بتارہا ہوں، جن سے خدا زیادہ کام لیتا ہے ان کو تقاضے بھی زیادہ شدید دیے جاتے ہیں کیوں کہ اگر مٹیریل نہیں ہوگا تو اوپلا بنے گا کیسے؟ لیکن ایسے لوگوں کو ایک کمال یہ دیا جاتا ہے کہ باوجود اس عظیم اور شدید اور کثیر مٹیریل کے وہ مجاہدہ کا غم اُٹھاتے ہیں، گناہ سے بچنے کا دل پر غم اُٹھاتے ہیں۔ بس اللہ کے راستہ میں یہی غم اُٹھانا سیکھ لیجیے  ، پھر ان شاء اللہ تعالیٰ جتنے بھی گناہوں کے تقاضے ہیں وہ سب نور بن جائیں گے، جو تقاضوں کے باوجود گناہوں سے بچنے کا غم اُٹھاتا ہے تو نفس کو تکلیف ہوتی ہے اور جب نفس کو غم پہنچتا ہے تو روح میں نور پیدا ہوتا ہے اور جس قدر شدید غم پہنچتا ہے اسی قدر قوی نور پیدا ہوتا ہے۔ ذرا غور سے سن لیجیے   یہ بات! مثلاً نفس نے ایک کلو غم اُٹھایا گناہوں کے 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرض مرتب 6 1
3 نزولِ سکینہ 8 1
4 قربِ عبادت اور قربِ ندامت 9 1
5 تذکرہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ 10 1
6 غم دنیا سے ڈرنا خامی عشق کی دلیل ہے 11 1
7 اللہ کی محبت میں تڑپنے کا مطلب 12 1
8 رابطہ عبد و معبود 13 1
9 مرتبۂ روح میں عارفین کی پرواز 14 1
10 مرنے والوں پر مرنا انتہائی بے وقوفی ہے 15 1
11 نمکین پانی پیاس کا علاج نہیں 15 1
12 سلوک کا نقطۂ آغاز غیراللہ سے گریز ہے 16 1
13 بدنظری کے حرام ہونے کی ایک عجیب حکمت 16 1
14 اہل عقل کون لوگ ہیں؟ 17 1
15 فرشتوں کو قربِ ندامت حاصل نہیں 17 1
16 انعام اشکِ ندامت 18 1
17 گریۂ ندامت و کفارۂ معصیت پر نفس کی پریشانی 19 1
18 الہامِ فجور سے نورِ تقویٰ ہونے کی عجیب مثال 19 1
19 کثیر الشہوۃ مجاہدہ کی بدولت قوی النور ہوتا ہے 20 1
20 اولیائے اللہ کی باطنی لذتوں سے سلاطین دنیا بے خبر ہیں 21 1
21 سکینہ کیا ہے اور کہاں نازل ہوتا ہے؟ 22 1
22 نزولِ سکینہ کے موانع 22 1
23 سکینہ کی تین تفسیریں 22 1
26 پہلی تفسیر اور علامت 22 23
27 نورِ سکینہ کے حصول اور حفاظت کا طریقہ 23 23
28 نزولِ سکینہ کی دوسری علامت 24 23
29 تیسری علامت 24 23
30 نزولِ سکینہ ازدیادِ ایمان یعنی نسبتِ خاصہ کا ذریعہ 26 1
31 ایمانِ عقلی استدلالی موروثی و ایمانِ ذوقی حالی وجدانی کی تمثیل 27 1
32 ذکر اللہ سے نزولِ سکینہ کی دلیل نقلی اور ایک علم عظیم 28 1
Flag Counter