ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
سمیت دیگر لوگوں سے گفتگو کی اَور خود میں نے وزیرِ داخلہ عبدالرحمن ملک، سیکرٹری داخلہ، آئی جی پنجاب، ہوم سیکرٹری، چیف کمشنر اِسلام آباد اَور دیگر تمام اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا۔عجیب بات یہ ہے کہ اِن لوگوں میں سے کوئی بھی مدارس کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن کی ذمّہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہر ایک دُوسرے پر ڈال رہا ہے اَور زبانی طور پر مدارس کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن عملاً پھر مدارس پر چڑھائی کردی جاتی ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ تعلیم و تعلّم میں مصروف لوگوں کے غم و غصہ اَور مدارس کے طلباء کے اشتعال کو آخر کب تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے اَور ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اِس صورت ِ حال کوکیا نام دیا جائے ؟ قول و فعل کا تضاد کہا جائے یا کسی تیسری قوت کی کارستانی ؟ اسلام دشمنی سمجھا جائے یا اِستعماری قوتوں کی غلامی؟ اَور متاثرہ فریق کو صبر و تحمل کی ترغیب دیں یا لانگ مارچ کی تیاری کریں؟ کیونکہ اِس ملک میں لانگ مارچ کے بغیر نہ تو کوئی مطالبہ منوایا جاسکتا ہے اَور نہ ہی اپنا حق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قارئین ِ کرام ! مولانا نے اپنے مضمون میں جو واقعات نقل فرمائے ہیں اُن سے یہ بات واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ مدارس کے خلاف تمام کارروائیاں یک طرفہ اَور بِلاجواز ہیں۔ مولانا کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم اِس اَمر کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ قادیانی، آغاخانی اَور پرویزی فتنہ دَر پردہ اِن تمام کارروائیوں میں برابر کا شریک ہے جیسا کہ جگہ جگہ مضمون میں حاشیے پر اِس کی نشاندہی کرائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانانِ عالَم کو صحیح سمجھ عطاء فرمائے تاکہ وہ اِسلام کے خلاف ہونے والی اَندرونی اَور بیرونی سازشوں کو سمجھیں اَور اپنے اَندرونی اختلافات کو ختم کرکے باہمی اتحاد قائم کریں جو موجودہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔