ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2009 |
¾اكستان Ù |
|
چاہتیہے اَور حکومت اَور دینی قوتوں کے مابین محاذ آرائی کیلیے راہ ہموار کر رہی ہے۔ ١ مدارس پر حالیہ چھاپے مدارس کے خلاف اِمتیازی سلوک بھی ہے کیونکہ وہ عصری اِدارے جہاں سے آئے روزاسلحہ برآمد ہورہا ہے جہاں قتل و غارت گری اَور طلباء کے مابین تصادم روز کا معمول بن گیا ہے اُن کے خلاف کریک ڈاؤن کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اَور سارا نزلہ مدارس پر گرایا جاتا ہے۔ اسی طرح نجی ہاسٹلز، ہوٹلوں اَور دُوسری جگہوں پر کریک ڈاؤن نہیں ہوتا صرف مدارس کے خلاف ہی کیوں ہوتاہے ؟ ٢ دینی مدارس جہاں سے ہر وقت قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں گونجتی ہیں، جہاں ملک کے استحکام وسا لمیت کے لیے قرآن کریم کا ختم، سورۂ یٰسین کی تلاوت اَور آیت ِ کریمہ کا وِرد کیا جاتا ہے وہاں اِس طرح چھاپے مار کر اِن اِداروں کا تقدّس پامال کرنا نہایت افسوناک ہے۔ بعض جگہوں سے یہ اِطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پولیس اہلکار جوتوں سمیت مسجدوں میں گھس گئے، بعض جگہوں پر بچیوں کے مدارس میں چادر اَور چار دِیواری کا تقدّس پامال کیا گیا۔ یہ کس قدر شرمناک بات ہے ؟پاکستان کے عوام یہ سمجھ رہے ہیں کہ دینی مدارس کو اِس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ مراکز جو اِسلام کے قلعے ہیں اُن میں نقب لگائی جائے اَور جو اِدارے لوگوں کے دین سے وابستگی اَور حصول ِ علم کا ذریعہ ہیں اُن کو بدنام کردیا جائے اِس لیے اِس قسم کے کریک ڈاؤن کا سلسلہ فی الفور بند ہونا چاہیے تاکہ عوامی تشویش و اضطراب کا خاتمہ ہوسکے۔ میں نے اِن چھاپوں کے بعد تقریباً ہر مدرسہ کی انتظامیہ اَور مہتمم صاحبان سے رابطہ کیا، اُن کی حوصلہ افزائی اَور دِلجوئی کی، اِس دوران یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی کہ اِس قسم کی کارروائیوں سے ملک بھر میں بہت زیادہ اشتعال اور غم و غصہ پایاجا تا ہے۔ اِن چھاپوں کے بعد راولپنڈی اَور اِسلام آباد کے علماء کرام نے تمام اہم سرکاری شخصیات اور اعلیٰ حکام سے وفد کی صورت میں ملاقاتیں کیں، اِسی طرح کراچی کے علماء نے گورنر سندھ ١ قادیانی منصوبہ ٢ اس لیے کہ قادیانیوں پرویزیوں اور آغاخانیوں کی دِلی مرادیں بھی یہی ہیں۔