ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2008 |
¾اكستان Ù |
|
مسئلہ : جب بچہ نے کسی اورعورت کادُودھ پیاتووہ عورت اُسکی ماں بن گئی اوراُس انا کا شوہر جس کے بچہ کایہ دُودھ ہے اُس بچہ کاباپ ہوگیا اوراُس کی تمام اولاداُسکے دُودھ شریکی بھائی بہن ہوگئے اورنکاح حرام ہوگیااورجوجورشتے نسب کے اعتبارسے حرام ہیں وہ رشتے دُودھ کے اعتبارسے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ عام طورسے مجتہدین کے فتوے میں یہ حکم جب ہی ہے کہ بچے نے دوبرس کے اَندرہی اَندردُودھ پیا ہو۔ اگربچہ دوبرس کاہوچکاہے اوراُس کے بعدکسی عورت کادُودھ پیاتواُس پینے کاکوئی اعتبارنہیں نہ وہ پلانے والی ماں بنی اورنہ اُس کی اولاداِس بچے کے بھائی بہن ہو ئے اِس لیے اگرآپس میں نکاح کردیں تودُرست ہے لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک ڈھائی برس کے اَندراَندربھی دُودھ پیاہوتب بھی نکاح دُرست نہیں۔ اِس لیے اگرابھی نکاح نہ ہواہواورامام صاحب کے قول کی رعایت کی جائے تواچھاہے۔ مسئلہ : جب بچہ کے حلق میں دُودھ چلاگیاتوسب رشتے حرام ہوگئے چاہے تھوڑادُودھ گیا ہو یا بہت ۔ مسئلہ : اگربچہ نے چھاتی سے دُودھ نہیں پیابلکہ عورت نے اپنادُودھ نکال کراُس کے حلق میں ڈال دیا تواِس سے بھی سب رشتے حرا م ہوگئے۔اِسی طرح اگربچہ کی ناک میں دُودھ ڈال دیاتب بھی سب رشتے حرام ہوگئے۔ مسئلہ : اگربچہ اورچیزیں کھانے پینے لگاہواورماں کادُودھ پیناچھوردیا ہولیکن پھردوسال کی عمرکے اَندر کسی عورت نے اُس کو اپنادُودھ پلادیاہوتورضاعت ثابت ہوگی۔ مسئلہ : اگرعورت کادُودھ پانی میں یاکسی دوامیں خواہ وہ مائع ہویاجامدہووغیرہ میں ملاکربچہ کو پلایا تو دیکھوکس چیزکاغلبہ ہے دُودھ کا یادُوسری شے کا؟اُن میں سے جس چیزکارنگ بواورمزہ غالب ہواُسی چیزکاغلبہ سمجھاجائے گا بلکہ جس چیزکاایک وصف بھی غالب ہواُسی چیزکاغلبہ سمجھاجائے گا، اگردُودھ کاغلبہ ہوا تورضاعت ثابت ہوگی ورنہ نہیں۔ مسئلہ : عورت کا دُودھ بکری یاگائے کے دُودھ میں مل گیااوربچے نے پی لیا تودیکھوزیاد ہ کو ن سا ہے؟ اگرعورت کادُودھ زیادہ ہویادونوں برابرہوں توسب رشتے حرام ہوگئے اورجس عورت کادُودھ ہے یہ بچہ اُس کی اولادبن گیا اوراگربکری یاگائے کادُودھ زیادہ ہے تواُس کاکچھ اعتبارنہیں ایساسمجھیں گے کہ گویااُس