ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
بجے کے قریب ریسٹ ہائوس سے واپس شہر کو گئے۔ حضرت نے نئی تعمیر شدہ مسجد ''جامعہ مسجد سفید'' میں پہلے جمعہ کا بیان فرمایا اس بیان میں مسجد کی فضیلت اور اہمیت بیان کی۔ حاجی صابر صاحب کی طرف سے دوپہر کے کھانے کی دعوت پر حضرت اُن کے گھر تشریف لے گئے۔ بعد نمازِ عصر مولانا طارق صاحب اپنے مدرسے لے گئے وہاں پر مولانا جانان صاحب نے حضرت سے ملاقات کی ، بعد میں بھائی طارق نے دُعاء کی درخواست کی ۔حضرت نے جامعہ کی تعمیر و ترقی کے لیے دُعاء کی۔ عصر کے بعد کوہاٹ سے واپس پشاور کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں بھائی ناصر خان صاحب درہ آدم خیل والے حضرت کے انتظار میں پہلے ہی سے سڑک کے کنارے کھڑے تھے۔ مغرب کی نماز بھائی ناصر خان صاحب کے گھر ادا کی۔ درہ میں جامعہ مدنیہ جدید کے طلباء عبد اللہ آفریدی، جہانگر آفریدی و عبدالرئوف آفریدی حضرت کے آنے کی خبر سن کر وہاں پر پہلے سے موجود تھے۔مختصر سے قیام کے بعد وہاں سے بھائی خالد صاحب کے ہاں پشاور میں اُن کی رہائش گاہ حیات آباد پہنچے۔ رات وہیں قیام کیا۔ اگلی صبح بعد فجر حیات آباد کی مسجد تکبیر کے خطیب حضرت مولانا ذاکر الرحمن صاحب کی دعوت پر اُن کے ہاں دورہ تفسیر کرنے والے طلباء سے مختصر خطاب کیا۔ یہاں سے بھائی یوسف صاحب جوکہ کوہاٹ سے پشاور تک رُخصت کرنے کے لیے ہمراہ تھے واپسی کی اجازت لے کر کوہاٹ واپس ہوئے۔ بعد ازاں پشاور سے اَٹک روانہ ہوئے اور جامعہ مدنیہ جدید کے اُستاذ الحدیث مولانا امان اللہ صاحب کے گھر تشریف لے گئے ۔کچھ دیر بعد اپنے اُستاد حضرت مولانا کریم اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی۔ فاتحہ خوانی کے بعد حضرت اپنے دُوسرے اُستاد حضرت مولانا ظہور الحق صاحب مدظلہم العالی کی خدمت میں اُن کے گھر تشریف لے گئے۔ بعد ازاں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الغنی صاحب رحمة اللہ علیہ جوکہ غور غوشتی میں کچھ عرصہ قبل وفات پا گئے تھے اُن کے تعزیت کے لیے اُن کے گھر تشریف لے گئے۔ گھر پر اُن کے صاحبزادہ عبد اللہ صاحب سے اظہارِ تعزیت کی۔ 10:00 بجے وہاں سے حضرت کے پرانے دوست بھائی سیف الرحمن صاحب جدہ والے کی طرف سے دوپہر کے کھانے کی دعوت پر 2:00بجے اُن کی رہائش گاہ چکلالہ سکیم پنڈی پہنچے۔ بعد نمازِ عصر لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ رات 2:00بجے بخیریت گھر واپسی ہوئی، والحمد للہ۔