ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
ختیار کی، یہاں سے آپ کی محبت دینی و زُہد ثابت ہوا کہ دینی بزرگی معلوم کرکے پھر قدر ِ ضرورت بھی دُنیا کی طرف توجہ نہ فرمائی اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اور یہاں سے کوئی وہم نہ کرے کہ حضرت علی کا رسول اللہ ۖ کے برابر ہونا لازم آتا ہے ایسا وہم محض خبط ہے جو کسی زبان کے محاورہ سے آگاہ نہ ہوگا وہ ایسی بات کہے گا۔ حضرت علی کا وہی رُتبہ ہے جتنا شریعت میں ثابت ہے یعنی آپ خلیفۂ چہارم ہیں یہی ترتیب فضیلت کی ہے اور عقائد میں تفصیلاً مذکور ہے ۔ وصاحب روضة الاحباب درباب نکاح حضرت فاطمہ گفتہ وروایتے آنکہ سید ِعالم راگمان شد کہ فاطمہ بجہت آن میگرید کہ علی را مالے نیست۔ فرمود اے جانِ پدر در حق تو تقصیر نہ کردم کسے را شوہر تو گردانیدم کہ بہترین اہل ِ بیت من ست وَاَیْمُ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَقَدْ زَوَّجْتُکِ سَیِّدًا فِی الدُّنْیَا وَاِنَّہ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ وفی روایة زَوَّجْتُکِ سَیِّدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وگریہ مذکور بعد نکاح و عمل آب مذکور بود۔ (٦٤) حاکم آوردہ کہ فاطمہ بنت ِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر عم خود حمزہ را ہر جمعہ زیارت میکرد ونماز میگزارد و میگریست نزدِ اُو کَذَا فِیْ بَعْضِ الْمُعْتَبَرَاتِ ثُمَّ رَأَیْتُ بِھٰذَا السَّنَدِ فِیْ نَیْلِ الْاَوْطَارِ وَالتَّلْخِیِْصِ الْحَبِیْر۔ حاکم نے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ِ رسولِ خدا ۖ اپنے چچا حضرت حمزہ (حضرت حمزہ حضور ۖ کے رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھی تھے پس پہلے رشتہ سے حضرت فاطمہ کے چچا ہوئے) کی قبر کی زیارت ہر جمعہ کو فرماتی تھیں اور نماز پڑھتی تھیں اور قبر کے پاس روتی تھیں ( جس طرح کا رونا جائز ہے)۔ زیارت ِ قبر دُنیا چھڑانے میں اور آخرت یاد دِلانے میں ایک خاص تاثیر رکھتی ہے اور جمعہ کے روز زیادہ بہتر ہے۔ سبحان اللہ! اللہ کی کیسی محبت اور دین کا کیسا شوق تھا اور عورتوں کو زیارت ِ قبور اِس زمانہ میں بہت سی خرابیوں کی وجہ سے درُست اور رَوا نہیں پہلے جائز تھی جیساکہ مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنا اُن کو مردوں کے پیچھے جائز تھا اور اَب منع ہوگیا اور نماز پڑھنا قبروں کے پاس جائز ہے بشرطیکہ قبر منہ کے سامنے نہ ہو پیچھے یا داہنے یا بائیں جانب ہو۔