Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007

¾اكستان Ù

41 - 64
ختیار کی، یہاں سے آپ کی محبت دینی و زُہد ثابت ہوا کہ دینی بزرگی معلوم کرکے پھر قدر ِ ضرورت بھی دُنیا   کی طرف توجہ نہ فرمائی  اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ  اور یہاں سے کوئی وہم نہ کرے کہ حضرت علی   کا رسول اللہ  ۖ  کے برابر ہونا لازم آتا ہے ایسا وہم محض  خبط ہے جو کسی زبان کے محاورہ سے آگاہ نہ ہوگا وہ ایسی بات کہے گا۔ 
حضرت علی   کا وہی رُتبہ ہے جتنا شریعت میں ثابت ہے یعنی آپ خلیفۂ چہارم ہیں یہی ترتیب فضیلت کی ہے اور عقائد میں تفصیلاً مذکور ہے ۔ وصاحب روضة الاحباب درباب نکاح حضرت فاطمہ   گفتہ وروایتے آنکہ سید ِعالم راگمان شد کہ فاطمہ بجہت آن میگرید کہ علی را مالے نیست۔ فرمود اے جانِ پدر در حق تو تقصیر نہ کردم کسے را شوہر تو گردانیدم کہ بہترین اہل ِ بیت من ست  وَاَیْمُ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَقَدْ زَوَّجْتُکِ سَیِّدًا فِی الدُّنْیَا وَاِنَّہ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ وفی روایة  زَوَّجْتُکِ سَیِّدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وگریہ مذکور بعد نکاح و عمل آب مذکور بود۔ 
(٦٤)  حاکم آوردہ کہ فاطمہ بنت ِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر عم خود حمزہ را ہر جمعہ زیارت میکرد ونماز میگزارد و میگریست نزدِ اُو کَذَا فِیْ بَعْضِ الْمُعْتَبَرَاتِ ثُمَّ رَأَیْتُ بِھٰذَا السَّنَدِ فِیْ نَیْلِ الْاَوْطَارِ وَالتَّلْخِیِْصِ الْحَبِیْر۔ 
حاکم نے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ِ رسولِ خدا  ۖ  اپنے چچا حضرت حمزہ (حضرت حمزہ حضور  ۖ  کے رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھی تھے پس پہلے رشتہ سے حضرت فاطمہ کے چچا ہوئے) کی قبر کی زیارت ہر جمعہ کو فرماتی تھیں اور نماز پڑھتی تھیں اور قبر کے پاس روتی تھیں ( جس طرح کا رونا جائز ہے)۔ زیارت ِ قبر دُنیا چھڑانے   میں اور آخرت یاد دِلانے میں ایک خاص تاثیر رکھتی ہے اور جمعہ کے روز زیادہ بہتر ہے۔ 
سبحان اللہ! اللہ کی کیسی محبت اور دین کا کیسا شوق تھا اور عورتوں کو زیارت ِ قبور اِس زمانہ میں بہت  سی خرابیوں کی وجہ سے درُست اور رَوا نہیں پہلے جائز تھی جیساکہ مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنا اُن کو  مردوں کے پیچھے جائز تھا اور اَب منع ہوگیا اور نماز پڑھنا قبروں کے پاس جائز ہے بشرطیکہ قبر منہ کے سامنے نہ ہو پیچھے یا داہنے یا بائیں جانب ہو۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف ٓغاز 3 1
4 اچھا اِنسان : 6 54
5 بُرا اِنسان : 7 54
6 اِنسانوں میں اَخلاق کی تقسیم : 7 54
7 کامل مسلمان : 7 54
8 ملفوظات شیخ الاسلام 8 1
9 معارف و حقائق : 8 8
11 حکیم فیض عالم صدیقی کی بے راہ رَوی حضرتِ اقدس اور حکیم فیض عالم صدیقی ١ کے درمیان خط و کتابت 13 1
12 حضرت ِ اقدس کا خط 13 11
13 (٢) مسامرہ میں ہے : 14 11
14 حکیم فیض عالم صدیقی کا خط 19 11
16 عورتوں کے رُوحانی اَمراض 26 1
17 مانگی ہوئی چیز واپس نہ کرنا : 26 16
18 دُوسرے کا سامان برتن وغیرہ واپس نہ کرنا : 26 16
19 شب ِقدر کی دُعائ 26 16
20 قرض لے کر نہ دینا : 28 16
21 بعض دین دار عورتوں کی کوتاہی : 28 16
22 رشتہ داروں سے پردہ میں کوتاہی : 29 16
24 سالانہ اِمتحانی نتائج 30 1
25 صدقۂ فطر کے احکام 35 1
26 صدقہ فطر کس پر واجب ہے : 35 25
27 صدقہ فطر کے فائدے : 35 25
28 کس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کیا جائے : 36 25
29 صدقہ فطر میں کیا دیا جائے : 36 25
30 جس نے روزے نہ رکھے ہوں اُس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے : 38 25
31 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 38 25
32 صدقہ فطر کی ادائیگی میں کچھ تفصیل : 38 25
33 صاحب نصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں : 38 25
34 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل : 38 25
35 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے : 39 25
36 نوکروں کو صدقہ دینا : 39 25
37 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو : 39 25
38 قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل 39 1
39 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
40 درس ِ حدیث 43 1
41 حسرت 44 1
42 گلدستہ ٔ احادیث 45 1
43 حضور علیہ الصلوٰة والسلام ہر مہینہ تین روزے رکھا کرتے تھے : 45 42
44 وفیات 48 1
45 یہودی خباثتیں 50 1
46 ماسونیت : (FREEMASONRY) 50 45
47 ''آزادی، بھائی چارہ، برابری'' 50 45
48 دینی مسائل 57 1
49 ( بیوی کا مجامعت میں حق ) 57 48
50 نامردی کی بناء پر فسخ ِنکاح کی تفصیل : 58 48
51 علیحدگی حاصل کرنے کا طریقہ کار : 58 48
52 اگر خاوند جماع کا دعوی کرے تو اُس وقت یہ تفصیل ہے : 59 48
53 اَخبار الجامعہ 60 1
54 درس حدیث 6 1
Flag Counter