ہونے کے باوجود جھگڑا ترک کردینا،اَبرآلود موسم میں نماز جلدی پڑھنااور سردی کے ایّام میں چھے طریقے سے وضو کرنا۔(شعب الایمان:2500)
حضرت ابوہریرہسے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺنے ایک دفعہ اِرشاد فرمایا:”أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا،وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟“ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جس کے ذریعے سے اللہ تعالی گناہ معاف کردے اور درجات بلند کردے؟صحابہ کرامنے عرض کیا : یارسول اللہ! ضروربتلائیے!آپﷺنے اِرشاد فرمایا:”إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ“(سردی وغیرہ کی)مشقت اور ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور مساجد کی طرف کثرت سے قدم بڑھا نا ، پس یہی رباط(یعنی اپنے نفس کو اللہ کی اِطاعت میں روکنا)ہے۔(مسلم:251)
حضرت حُمرانفرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عثماننے سردی کی ٹھنڈی رات میں وضو کا پانی منگوایا،اُن کااِرادہ نماز کیلئے جانے کا تھا، میں اُن کیلئے پانی لایا ،اُنہوں نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویاتو میں نے کہا:”حَسْبُكَ قَدْ أَسْبَغْتَ الْوُضُوءَ، وَاللَّيْلَةُ شَدِيدَةٌ الْبَرْدِ“بس بس کافی ہے،آپ نے وضو کرلیا ہے کیونکہ سردی شدید ہورہی ہے،اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریمﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے:”لَا يُسْبِغُ عَبْدٌ الْوُضُوءَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ