ہے اور جو گرمی کی تپش محسوس کرتے ہو وہ بھی جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہے۔(مسلم:617)
حضرت عبد اللہ بن عباسحضرت کعب سے یہ نقل کرتے ہیں :”إِنَّ فِي جَهَنَّمَ بَرْدًا هُوَ الزَّمْهَرِيرُ يُسْقِطُ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ حَتَّى يَسْتَغِيثُوا بِحَرِّ جَهَنَّمَ“بیشک جہنم (کاایک عذاب ایسا ہوگا جس )میں ٹھنڈک ہوگی اور وہ ”زمہریر“ہےجس میں(سردی کی شدّت کی وجہ سے) ہڈیوں سے گوشت گرجائے گا یہاں تک کہ لوگ جہنم کی گرمی(کے حصول) کی فریاد کرنے لگیں گے۔(حلیۃ الأولیاء:5/370)
حضرت مُجاہدفرماتے ہیں:”الزَّمْهَرِيرُ:الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَذُوقُوهُ مِنْ بَرْدِهِ“زمہریر وہ (شدید ٹھنڈک کا)عذاب ہےجس کی ٹھنڈک کو چکھنے کی بھی لوگوں میں طاقت نہ ہوگی۔(صفۃ النّارلابن أبی الدّنیا:153)
جہنّم کی سردی سے پناہ مانگنے کی اہمیت کوسمجھنے کیلئے درج ذیل روایت ملاحظہ فرمائیں:
حضرت ابوہریرہنبی کریمﷺکایہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں:جب کوئی گرم دن ہو اور کوئی شخص یہ کہے:”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَشَدَّ حَرَّ هَذَا الْيَوْمِ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ“ یعنی : لا اِلٰہ الا اللہ !یہ دن کتنا گرم ہے!اے اللہ ! مجھے جہنم کی گرمی سے نجات عطاء فرما۔ تو اللہ تعالیٰ جہنم سےاِرشاد فرماتے ہیں:میرے بندوں میں سے ایک بندے نے تیری گرمی اور تپش سے میری پناہ مانگی ہے،پس