حدیث میں ہے کہ رات کى نماز یعنى تہجد کى اپنے اوپر لازم کر لو، اگرچہ ایک ہى رکعت ہو ( رواہ الامام السیوطى بسند صحیح) مطلب یہ ہے کہ تہجد کى نماز اگرچہ تھوڑى ہى ہو مگر ضرور پڑھ لیا کرو اس لیے کہ اس کا ثواب بہت ہے گو فرض نہیں ہے اور یہ غرض نہیں کہ ایک رکعت پڑھ لو، اس لیے کہ ایک رکعت نماز کا پڑھنا درست نہیں کم ازکم دو رکعت پڑھے، حدیث میں ہے کہ رات کے قیام کو یعنى نماز تہجد کو اپنے ذمہ لازم کر لو اس لیے کہ وہ عادت ان نیکوں کى ہے جو تم سے پہلے تھے اور نزدیکى کرنے والى ہے اللہ تعالى کى طرف اور گناہ سے روکنے کا ذریعہ ہے اور مٹاتى ہے گناہوں (صغیرہ) کو ، ہٹانے والى ہے مرض کو جسم سے (رواہ السیوطى بسند صحیح)
تہجد کے وقت خاص طور پر دعا قبول ہوتى ہے ضرور پڑھنا چاہیے، حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کى نماز پڑھى ہے، رات بھر خدا کى عبادت کرتے تھے (بہشتى زىور بتغىر)
(7) صلوٰۃ التسبىح
حضور ِاقدس ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے چچا حضرت عباس رضى اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا مَیں تمھیں ایک عَطِیَّہ کروں؟ ایک بخشش کروں؟ ایک چیز بتاؤں؟ تمھیں دس چیزوں کامالک بناؤں؟ جب تم اِس کام کو کروگے تو حق تَعَالیٰ شَانُہٗ تمھارے سب گناہ: پہلے اور پچھلے، پُرانے اور نئے، غلَطی سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے، چھوٹے اور بڑے، چھپ کر کیے ہوئے اور کھُلَّم کھلا کیے ہوئے؛ سب ہی مُعاف فرما دیں گے پھر آپ نے ان کو صلاۃ التسبىح کا طرىقہ سکھاىا۔ اس نماز کو ادا کرنے کے دو طرىقے ہىں:
اوَّل یہ کہ،کھڑے ہوکر الحمد شریف اور سورۃ کے بعد پندرہ مرتبہ چاروں کلمے: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ پڑھے، پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیْمِ کے بعد دس مرتبہ پڑھے، پھر رکوع سے کھڑے ہوکر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کے بعد دس مرتبہ پڑھے ،پھر دونوں سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلیٰ کے بعد دس دس مرتبہ پڑھے، اور دونوں کے درمیان جب بیٹھے دس مرتبہ پڑھے، اور جب دوسرے سجدے سے اُٹھے تو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتا ہوا اُٹھے، اور بجائے کھڑے ہونے کے بیٹھ جائے، اور دس مرتبہ پڑھ کر بغیر اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے کہنے کے کھڑا ہوجائے، اور دو رکعت کے بعد اِسی طرح چوتھی رکعت کے بعد پہلے اِن کلموں کو دس دس مرتبہ پڑھے، پھر التحیات پڑھے ۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ، سبحانك اللہم کے بعد الحمدسے پہلے پندرہ مرتبہ پڑھے، اور پھر الحمد اور سورۃ کے بعد دس مرتبہ پڑھے، اور باقی سب طریقہ بہ دستور؛ البتہ اِس صورت میں نہ تو دوسرے سجدے کے بعد بیٹھنے کی ضرورت ہے، اور نہ التحیات کے ساتھ پڑھنے کی، عُلَمانے لکھا ہے کہ: بہتر یہ ہے کہ کبھی اِس طرح پڑھ لیا کرے کبھی اُس طرح۔
چوں کہ یہ نماز عام طورسے رائج نہیں ہے؛ اِس لیے اِس کے مُتعلِّق چند مسائل بھی لکھے جاتے ہیں؛ تاکہ پڑھنے والوں کو سہولت ہو:
مسئلہ(۱): اِس نماز کے لیے کوئی سورت قرآن کی مُتعیَّن نہیں، جونسی سورت دل چاہے پڑھے؛ لیکن بعض عُلَما نے لکھا ہے کہ: سورۂ حدید، سورۂ حشر، سورۂ صف، سورۂ جمعہ، سورۂ تغابن میں سے چار سورتیں پڑھے، بعض حدیثوں میں بیس آیتوں کی بہ قدر آیا ہے؛ اِس لیے ایسی سورتیں پڑھے جو بیس آیتوں کے قریب قریب ہوں، بعض نے اِذَا زُلْزِلَتْ، وَالْعَادِیَات، تَکَاثُر، وَالْعَصْر، کَافِرُون، نَصْر، اِخلَاص لکھا ہے، کہ اِن میں سے پڑھ لیاکرے۔
مسئلہ(۲): اِن تسبیحوں کو زبان سے ہرگز نہ گِنے، کہ زبان سے گِننے سے نماز ٹوٹ جائے گی، اُنگلیوں کو بند کرکے گننا اور تسبیح ہاتھ میں لے کر اُس پر گننا جائز ہے؛ مگر مکروہ ہے، بہتر یہ ہے کہ انگلیاں جس طرح اپنی جگہ پر رکھی ہیں ویسی ہی رہیں، اور ہرکلمے پر ایک ایک اُنگلی کو اُسی جگہ دَباتا رہے۔
مسئلہ(۳):اگر کسی جگہ تسبیح پڑھنا بھول جائے تو دوسرے رُکن میں اُس کو پورا کرلے؛ البتہ بھولے ہوئے کی قضا رکوع سے اُٹھ کر اور دو سجدوں کے درمیان نہ کرے، اِسی طرح پہلی اور تیسری رکعت کے بعد اگر بیٹھے تو اُن میں بھی بھولے ہوئے کی قضانہ کرے؛ بلکہ صرف اُن کی ہی تسبیح پڑھے، اور اُن کے بعد جو رکن ہو اُس میں بھولی ہوئی بھی پڑھ لے، مثلاً: اگر رکوع میں پڑھنا بھول گیا تو اُن کو پہلے سجدے میں پڑھ لے، اِسی طرح پہلے سجدے کی دوسرے سجدے میں اور دوسرے سجدے کی دوسری رکعت میں کھڑا ہوکر پڑھ لے، اور اگر رہ جائے تو آخری قعدے میں التحیات سے پہلے پڑھ لے۔
مسئلہ(۴):اگر سجدۂ سہو کسی وجہ سے پیش آجائے تو اُس میں تسبیح نہیں پڑھنا چاہیے؛ اِس لیے کہ مقدار تین سو ہے، وہ پوری ہوچکی، ہاں! اگر کسی وجہ سے اِس مقدار میں کمی رہی ہوتو سجدۂ سہو میں پڑھ لے۔
مسئلہ (۵): بعض احادیث میں آیا ہے کہ التحیات کے بعد سلام سے پہلے یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَسْئَلُكَ تَوْفِیْقَ أَهْلِ الْهُدٰی، وَأَعْمَالَ أَهْلِ الْیَقِیْنِ، وَمُنَاصَحَۃَ أَهْلِ التَّوْبَۃِ، وَعَزْمَ أَهْلِ الصَّبْرِ، وَجِدَّ أَهْلِ الْخَشْیَۃِ، وَطَلَبَ أَهْلِ الرَّغْبَۃِ، وَتَعَبُّدَ أَهْلِ الْوَرْعِ، وَعِرْفَانَ أَهْلَ الْعِلْمِ حَتّٰی أَخَافَكَ. اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَسْئَلُكَ مَخَافَۃً تَحْجُزُنِيْ بِهَا عَنْ مَّعَاصِیْكَ، وَحَتّٰی أَعْمَلَ بِطَاعَتِكَ عَمَلًا أَسْتَحِقُّ بِہٖ رِضَاكَ، وَ حَتّٰی أُنَاصِحَكَ فِيْ التَّوْبَۃِ خَوْفًا مِّنْكَ، وَحتّٰی أُخْلِصَ لَكَ النَّصِیْحَۃَ حُبًّا لَّكَ، وَحَتّٰی أَتَوَکَّلَ عَلَیْكَ فِي الْاُمُوْرِحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ، سُبْحَانَ خَالِقِ النُّوْرِ. رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا اِنَّكَ عَلیٰ کُلِّ شَيْءٍ قَدْیِرٌ بِرَحْمَتِكَ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ. (حلیۃ الاولیاء)
ترجَمہ: اے اللہ ! مَیں آپ سے ہدایت والوں کی سی توفیق مانگتا ہوں، اور یقین والوں کے عمل اور توبہ والوں کا خلوص مانگتاہوں، اور صابرین کی پختگی اور آپ سے ڈرنے والوں کی سی کوشش (یا اِحتیاط)مانگتاہوں، اور رغبت والوں کی سی طلب، اور پرہیزگاروں کی سی عبادت، اور عُلَما کی سی معرفت؛ تاکہ مَیں آپ سے ڈرنے لگوں۔ اے اللہ ! ایسا ڈر جو مجھے آپ کی نافرمانی سے روک دے، اور تاکہ مَیں آپ کی اطاعت سے ایسے عمل کرنے لگوں جن کی وجہ سے آپ کی رَضا وخوشنودی کا مُستحِق بن جاؤں، اور تاکہ خُلوص کی توبہ آپ کے ڈر سے کرنے لگوں، اور تاکہ سچا اِخلاص آپ کی محبت کی وجہ سے کرنے لگوں، اور تاکہ آپ کے ساتھ حُسنِ ظن کی وجہ سے آپ پر توکُّل کرنے لگوں، اے نور کے پیدا کرنے والے! تیری ذات پاک ہے، اے ہمارے رب! ہمیں کامل نور عطا فرما، اور تُو ہماری مغفرت فرما، بے شک تُو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اَرحمَ الرَّاحِمین! اپنی رحمت سے درخواست کو قَبول فرما۔
مسئلہ(۶): اِس نماز کا اوقاتِ مکروہہ کے عِلاوہ باقی دن رات کے تمام اوقات میں پڑھنا جائز ہے؛ البتہ زوال کے بعد پڑھنا زیادہ بہتر ہے، پھر دن میں کسی وقت، پھر رات کو۔
مسئلہ(۷): بعض حدیثوں میں سوم کلمہ کے ساتھ لاحول کو بھی ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ اوپر تیسری حدیث میں گزرا؛ اِس لیے اگر کبھی کبھی اِس کو بڑھالے تو اچھا ہے۔ (از فضائل ذکر)
(8) صلوٰۃ الحاجۃ:
حضرت عبد اللہ بن ابى اوفى رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ رسول اللہ نے فرماىا: جس شخص کو کوئى حاجت اور ضرورت ہو اللہ تبارک وتعالىٰ سے متعلق ىا کسى آدمى سے متعلق (ىعنى اىسى ہو جس کا تعلق براہِ راست اللہ تعالىٰ ہى سے ہو کسى بندے سے اس کا واسطہ ہى نہ ہو ىا اىسا معاملہ ہو کہ بظاہر اس کا تعلق کسى بندے سے ہو، بہر حال اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرے اور خوب اچھا وضو کرے اس کے بعد دورکعت نماز پڑھے، اس کے بعد اللہ تعالىٰ کى کچھ حمد وثنا کرے اور اس کے نبى پر درود پڑھے، پھر اللہ تعالىٰ کے حضور مىں اس طرح عرض کرے:
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ اْلحَلِيْمُ الْكَرِيْمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَسْاَلُكَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَآئِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ اِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا اِلَّا قَضَيْتَهَا يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئى معبود نہىں وہ بڑے علم والا اور بڑا کرىم ہے ،پاک ہے، وہ اللہ جو عرش عظىم کا بھى رب اور مالک ہے،سارى حمد وستائش اس اللہ کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اے اللہ ! مىں تجھ سے سوال کرتا ہوں ان اعمال اور ان اخلاق و احوال کا جو تىرى رحمت کا موجب اور وسىلہ اور تىرى مغفرت اور بخشش کا پکا ذرىعہ بنىں اور تجھ سے طالب ہوں ہر نىکى سے فائدہ اٹھانے اور حصہ لىنے کا اور ہر گناہ اور معصىت سے سلامتى اور حفاظت کا۔ خداوندا! مىرے سارے ہى گناہ بخش دے اور مىرى ہر فکر اور پرىشانى دور