آثار محبت الہیہ |
ہم نوٹ : |
|
مٹی کا ڈھیلا ہے لیکن جس مٹی پر سورج کی شعاعیں پڑتی ہیں اس پر چمک ضرور آجاتی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ جو بیان ہوئے ہیں ان سے لوگوں کو بہت مناسبت ہوئی ہے۔ تو یہ چار وعظ ہیں، خود بھی پڑھیے اور اپنے دوستوں اور عزیزوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیجیے۔ آپ کا یہ خرچ اشاعتِ دین پر ہوگا، ایک کے بجائے تین تین وعظ لیجیے، تین رشتہ داروں کو ایک ہی دفعہ دے دیا اور ان سے کہہ دیا کہ پڑھ کے واپس کردینا، پھر ان سے واپس لے کر دوسرے دوستوں کو دے دو، اس طرح سے اشاعتِ دین کے اندر آپ کا حصہ لگ جائے گا اوران شاء اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ دین کی اشاعت کرنے والوں میں شمار کیے جائیں گے اور امید ہے کہ اس سے آپ پر اللہ کی خصوصی رحمت بھی نازل ہوگی۔ یہ اجتماع اللہ تعالیٰ کے نام پر ہے، نہ زبان پر ہے، نہ وطن پر ہے، نہ تجارت پر ہے، یہ مختلف زبانوں کے، مختلف خاندانوں کے، مختلف قبائل کے، مختلف شہروں کے، مختلف وطن کے لوگوں کا اجتماع ہے۔ اے خدا! تو اس بات پر گواہ ہے، تو ہمارے دلوں کی نیت سے باخبر ہے کہ ہم صرف تیرے نام پر جمع ہیں، کلمہ کی بنیاد پر جمع ہیں، آپ اپنی رحمت سے اس اجتماع کو قبول فرمائیے، میری ماؤں بہنوں کو بھی قبول فرمائیے اور میرے دوستوں کو بھی قبول فرمائیے اور دوستوں کے گھروالوں کو بھی قبول فرمائیے، ہم سب کو اللہ والی حیات نصیب فرمائیے، تقویٰ والی زندگی نصیب فرمائیے، ہمارے دست وبازو سے آپ ہم کو چھین لیجیے کیوں کہ ہمارے ہاتھ خود ہمارے پاؤں کو کھا رہے ہیں ؎دست ما چو پائے مارا می خورد بے امانے تو کسے جاں کے برد علامہ جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ہمارا ہاتھ خود ہمارے پیر کو کھا رہا ہو تو بغیر آپ کے امن اور بغیر آپ کی پناہ کے اے خدا! ہم میں سے کوئی گناہ سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے ہم درخواست پیش کرتے ہیں کہ آپ ہمیں ہمارے ہاتھوں سے خرید لیں، ہماری طرف اپنی رحمت کا دستِ کرم بڑھا کر ہماری جانوں کو خرید لیجیے اور ہمارے قلب و جاں کو اپنی ذاتِ پاک سے اس طرح چپکا لیجیے کہ دنیا کی کوئی طاقت، کوئی نفسانی خواہش ہمیں آپ سے جدا نہ کرسکے۔