عرفان محبت |
ہم نوٹ : |
|
رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تمہاری عاشقی مسلم ہے، اس لیے میرا جینا اور مرنا تمہارے ساتھ ہوگا لہٰذا میرا یہ شعر جو شروعِ خطبہ میں پڑھا تھا اس حدیث کا ترجمان ہے؎ مری زندگی کا حاصل مری زیست کا سہارا ترے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرنا اور ؎ مجھے کچھ خبر نہیں تھی ترا درد کیا ہے یارب ترے عاشقوں سے سیکھا ترے سنگِ در پہ مرنا اور ؎ کسی اہل دل کی صحبت جو ملی کسی کو اخترؔ اسے آ گیا ہے جینا اسے آگیا ہے مرنا بہت تھکا ہوا ہوں، اس لیے مضمون سمیٹتا ہوں لیکن ؎ میں تھک جاتا ہوں اپنی داستانِ درد سے اخترؔ مگر میں کیا کروں چپ بھی نہیں مجھ سے رہا جاتا دیکھیے! کراچی میں ابھی ا بھی یہ شعر ہوا تھا جس کو میں نے پرچےمیں لکھواکر جلسے میں پڑھوایا۔ یہ شعر ابھی ابھی حالتِ سفر میں ہوا ہے ؎ ارض و سما سے غم جو اُٹھایا نہ جاسکا وہ غم تمہارا دل ہے ہمارا لیے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا زمین و آسمان اور پہاڑوں نے ڈر کر انکار کردیا کہ ہم آپ کے دردِ محبت کو برداشت نہیں کرسکتے۔ وَحَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ 10؎ اس دردِ غم کو انسان نے اُٹھالیا۔ (حضرت والا نے شعر پڑھنے والے سے فرمایا کہ میر اجہاں قیام ہے وہاں آکر اس کو ریکارڈ کرنا اور فرمایا کہ میرا قیام مجلس دعوۃ الحق میں ہے۔ جامع) _____________________________________________ 10؎الاحزاب :72