بعثت نبوت کے مقاصد |
§ہم نوٹ : |
|
سامنے باغ کی ایک چار دیواری آگئی، یہ اس میں کود گیا جہاں اس کا محبوب بیٹھا ہوا تھا، اپنے محبوب کو اچانک پاکر اس نے کہا: اے خدا!اس تھانیدار کے ہر بید پر ایک ہزار رحمتیں نازل فرما۔ ہر ڈنڈے پر ہزار ہزار رحمت نازل فرما کہ جس کے ڈنڈے نے مجھے میرے محبوب سے ملادیا۔تو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ قصہ تو ایسے ہی فرضی و مجازی ہے لیکن اصل مقصد میرایہ سمجھانا ہے کہ جو مصیبت ہمیں اللہ تک پہنچادےوہ مصیبت مصیبت نہیں۔ لیکن خدا سے عافیت مانگیئےکیوں کہ اللہ قادر ہے کہ ہمیں عافیت سے اللہ والا بنادے، اس لیے مصیبت مانگنا جائز نہیں ہے،یہ بات یاد رکھیے۔ یہی کہیے رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّفِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ہمیں دنیا میں بھی آرام سے رکھیے،آخرت میں بھی آرام سے رکھیے،لیکن اگر کوئی تکلیف آجائے تو سمجھ لو کہ اس میں ہمارا نفع ہے۔ اس آپریشن سے دل کو توڑنا ہے، کبر کو توڑنا ہے، غفلت کے پردوں کو چاک کرنا ہے۔ غفلت کے کینسر کے جراثیم پر ڈی ڈی ٹی چھڑکی جارہی ہے کہ جب صحیح رہتے ہو تو نظارے بازی کرتے ہو، معشوقوں کو تلاش کرتے ہو، اب گردے کا درد اُٹھا ہے تو معشوقوں کو تلاش کرو۔آنکھوں میں کالا پانی آگیا،اب دیکھو نا معشوقوں کو! اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ صحت اور عافیت کی قدر کرو ۔جو آرام میں اللہ کو یاد کرتا ہے تو دکھ میں خدا اس کو یاد رکھتا ہے۔ یہ روایت حدیث شریف کی میں نے خود دیکھی۔ جو سکھ میں اللہ کو یاد کرے تو دُکھ میں کیوں ہو! بس مضمون ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ سےدعا کرلیں کہ آج بس اللہ ارادہ کرلےاور اس آیت کی تفسیر اور پورے قرآنِ پاک کی عظمت کے صدقے میں،اس آیت کی تفسیر کی عظمت کے صدقے میں اے خدا! ہم سب کے لیے سو فیصد ارادہ فرمالے،ہم میں سے ایک بھی محروم نہ جائے، جتنے ہم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ والی زندگی نصیب فرمادے،اللہ والا بنادے ۔تقویٰ کی زندگی عطا فرمادے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دے دے اور ہر چھوٹے بڑے غم سے بچائے۔ہرچھوٹی بڑی پریشانی،چھوٹی بڑی بلا اور چھوٹے بڑےغم اور مصیبت سے بچائے ،اور جو ہمیں ستانے کا ارادہ کرے اللہ اس کو ہدایت دے کہ آکر معافی مانگے۔اگر اس کی ہدایت مقدر نہ ہو تو قدرتِ قاہرہ کے ڈنڈے سے اس کی کمر توڑ دے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ